دلچسپ علمی واقعات و مشاہدات

by Other Authors

Page 98 of 115

دلچسپ علمی واقعات و مشاہدات — Page 98

98 سے کچھ دریافت کرنے کی جرات پیدا ہوئی۔چنانچہ میں نے اُن کی خدمت میں ادب واحترام سے سوال کیا کہ آپ نے اپنے فصیح و بلیغ خطاب عام میں پاکستان کو نیا ستارہ قرار دے کر امید دلائی ہے کہ انتخاب کے ذریعہ اب نظام اسلامی کا قیام عمل میں آسکتا ہے۔یہ عمدہ تخیل ہے مگر میں یہ کہنا چاہتا ہوں که اگر واقعی پاکستان سے اسلامی معاشرہ کے معرض وجود میں آنے کے امکانات روشن ہو گئے ہیں تو آپ نے تحریک پاکستان کی مخالفت کیوں کی؟ مجھے سخت افسوس ہے کہ آپ جیسے مفکر اسلام، جنہیں قائد اعظم کے ساتھ ہونا چاہیے تھا اُن ایام میں ہمیں ایک سٹیج پر گاندھی جی کے ساتھ نظر آتے ہیں۔اس سوال نے مودودی صاحب پر گویا ایک بجلی سی گرادی اور آپ نے نمائشی شرافت کا پردہ چاک کر کے مجھے "کذاب" کے لقب سے نوازا اور فرمایا کہ یہ سراسر غلط ہے۔میں نے ہمیشہ پاکستان کی تائید کی ہے یہ پراپیگنڈا ہمارے مخالف کیمپوں کا ہے۔اب خدا کی قدرت نمائی ملاحظہ ہو چند روز قبل مجھے مرکز کی طرف سے مجاہد روس حضرت مولانا ظہور حسین صاحب کے ساتھ قصور شہر کے جلسہ سیرت النبی میں شرکت کے لیے بھجوایا گیا تھا۔واپسی پر میں نے اچھرہ کے مرکز جماعت اسلامی سے کچھ لٹریچر حاصل کیا جس میں رسالہ ”ترجمان القرآن مارچ ۱۹۴۶ء کا پرچہ بھی تھا۔باقی لٹریچر تو ہوٹل میں رکھا تھا لیکن جونہی مودودی صاحب نے ” صالح لقب سے سرفراز فرمایا، مجھے خیال آیا کہ یہ رسالہ تو میرے کوٹ میں موجود ہے۔جناب مودودی صاحب نے مجھے ایک نادان دیہاتی طالب علم سمجھ کر غلط بیانی کی جسارت کی تھی۔میں نے اُن کے سامنے اصل رسالہ رکھ دیا جس میں انہوں نے کھل کر تحریک پاکستان کوزبردست تنقید کا نشانہ بنایا تھا۔اصل رسالہ دیکھتے ہی مودودی صاحب نے ایک شاطر وکیل کا کردار ادا کرتے ہوئے ریکا یک پینترا بدلا اور ارشاد فرمایا کہ ہاں مجھے یاد آ گیا ہے میں نے واقعی لکھا تھا مگر یہ اس زمانہ کی بات ہے جب محمد علی جناح، لیاقت علی، عبدالرب نشتر اور دوسرے مسلم لیگی زعما کے سامنے پاکستان کا کوئی واضح نقشہ نہیں تھا نہ انہیں علم تھا کہ وہ مطالبہ پاکستان کس غرض سے کر رہے ہیں؟ اس جواب نے مولانا کی اسلامیت پوری طرح بے نقاب کر ڈالی جس کا مجھ پر شدید رد عمل ہوا۔میں نے بانی جماعت اسلامی کو مخاطب کرتے ہوئے جو تبصرہ کیا وہ کم و بیش ان الفاظ میں تھا دہ کہ آپ کے جواب نے میرے آبگینہ محبت و عقیدت کو پاش پاش کر دیا ہے۔ایک مفکر اسلام کی