دلچسپ علمی واقعات و مشاہدات — Page 96
96 دیدار گر نہیں ہے تو گفتار ہی سہی حسن و جمال یار کے آثار ہی نہیں سیح الموعود ) ان رسائل سے میری فوری توجہ جماعت اسلامی کے مطالعہ کی طرف ہوئی اور اسی پر میں نے ریسرچ کر کے ”جامعتہ المبشرین" سے "شاہد" کی ڈگری حاصل کی۔عنوان مقالہ تھا ”مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی صاحب کی تحریک پر تبصرہ سید نا حضرت مصلح موعودؓ نے خود ہی عنوان تجویز فرمایا۔اس کے نمایاں خدو خال پر بلیغ روشنی ڈالی اور اس غلام در کی ہر پہلو سے رہنمائی فرمائی۔استاذی المکرم خالد احمدیت حضرت مولانا ابوالعطا صاحب جالندھری نے مئی ۱۹۵۵ء کے الفرقان میں یہ پورا مقالہ سپر د اشاعت فرما دیا۔جس پر حضرت حافظ سید مختار احمد صاحب مختار شاہجہانپوری نے اظہارِ مسرت کرتے ہوئے فرمایا کہ اس مقالہ سے میری ایک دیرینہ تمنا بر آئی ہے۔یہ مقالہ منظر عام پر آیا تو جماعت اسلامی کے ایک ممتاز رہنما جناب مولوی گلزار احمد صاحب مظاہری خاص طور پر مجھے ملنے کے لیے ربوہ تشریف لائے اور اپنے نقطہ نظر سے اس پر اپنی رائے کا اظہار بھی فرمایا۔دو سال بعد جلسه سالانه ۱۹۵۱ء کے شبیہ اجلاس میں حضرت صاحبزادہ مرزا شریف احمد صاحب ایڈیشنل ناظر اصلاح وارشاد کی فرمائش پر مجھے ” جماعت اسلامی پر تبصرہ “ کے زیر عنوان جلسہ سالانہ کے مقدس سٹیج سے پہلی بار تقریر کی سعادت نصیب ہوئی جو اللہ کے فضل وکرم سے خاص طور پر نو جوانان احمد بیت میں غیر معمولی طور پر مقبول ہوئی اور صیغہ اشاعت نے ۱۹۵۸ء کی مشاورت کے موقع پر اسے شائع بھی کر دیا۔جس کا حضرت مصلح موعود نے ممبران مشاورت میں خاص طور پر تذکرہ فرمایا اور اس کی خرید کی تحریک فرمائی۔اب میں جناب مودودی صاحب کی دلچسپ ملاقات کی طرف آتا ہوں۔پاکستان میں پہلے صوبائی انتخابات کی سرگرمیاں صوبہ میں عروج پر تھیں کہ پریس نے خبر دی کہ مودودی صاحب اپنے بعض رفقاء کے ساتھ ایک طوفانی انتخابی دورہ فرما رہے ہیں اور سرگودھا کے بعد چنیوٹ کی پرانی منڈی کے جلسہ عام سے خطاب کریں گے۔میں نے حضرت پرنسپل صاحب سے اجازت حاصل کی