دیوبندی چالوں سے بچئے — Page 14
اُسامہ! کیا تو نے اس کا دل چیر کر دیکھ لیا تھا کہ وہ دل سے کلمہ پڑھ رہا تھا یا نہیں۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے اس فرمان سے واضح ہے کہ کسی شخص کو کسی کے بارے میں یہ کہنے کا حق حاصل نہیں کہ وہ جس بات کا زبان سے قائل ہے دل سے اس کا قائل نہیں اور جو شخص ایسا کرے وہ خواہ کتنا ہی پیارا صحابی کیوں نہ ہو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اس پر شدید ناراض ہوئے تھے چنانچہ حضرت اسامہ بیان کرتے ہیں کہ اس طرح شدید ناراضگی کے عالم میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے مخاطب کر کے یہ فقرہ اتنی بار دہرایا کہ میرے دل میں خواہش پیدا ہوئی کہ کاش میں آج سے پہلے مسلمان ہی نہ ہوا ہوتا اور اس طرح مجھے آپ کی ناراضگی نہ دیکھنی پڑتی۔حضرت امام سیوطی علیہ الرحمۃ کی کتاب "الخصائص الکبری جلد نمبر ۲ صفحہ ۷۸،۷۷ ناشر مکتبہ نوریہ رضویہ لائلپور باب ” معجزته فيمن مات ولم تقبلہ الارض “ میں درج یہ واقعہ بھی قابل غور ہے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں ایک جنگ میں ایک مسلمان ایک مشرک پر غالب آ گیا جب مسلمان نے اسے تلوار سے قتل کرنا چاہا تو اس نے فوراً لاالہ الا اللہ پڑھ دیا لیکن وہ مسلمان پھر بھی باز نہیں آیا اور اُسے قتل کر دیا پھر اس مسلمان قاتل کے دل میں خلش پیدا ہوئی تو اس نے ساری بات حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں عرض کر دی جس پر آپ نے فرمایا کیا تو نے اس کا دل چیر کر دیکھا تھا جب وہ مسلمان قاتل فوت ہو گیا تو اس کی تدفین کے بعد اگلے دن دیکھا گیا کہ اُس کی لاش قبر سے باہر پڑی ہے اس کے ورثاء نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں عرض کی آپ نے فرمایا اسے دوبارہ دفن کر دو پھر دوبارہ دفن کر دیا گیا تو اگلے دن پھر یہی ماجرا ہوا اُسے تیسری بار دفن کیا گیا تو پھر زمین نے اس کی لاش باہر پھینک دی تب حضرت رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرما یا کلمہ پڑھنے والے کو قتل کرنے والے کی لاش کو قبول کرنے سے زمین نے بھی انکار کر دیا ہے اس لئے اسے غار میں پھینک دو پھر 14