دیوبندی چالوں سے بچئے — Page 13
إلهَ إِلَّا الله مُحمد رسُول اللہ ہے اور دیو بندی لوگ جھوٹے طور پر ہماری طرف یہ بات منسوب کرتے ہیں جبکہ حقیقت یہ ہے کہ احمدی کلمہ طیبہ لَا إِلَهَ إِلَّا الله محمدرَّ سُول اللہ کی خاطر پاکستان میں اپنی جانوں کے نذرانے پیش کر رہے ہیں پاکستان کے فوجی حکمران ضیاء الحق نے احمدیوں پر کلمہ طیبہ پڑھنے کی پابندی لگا دی ہوئی ہے چنانچہ آج تک احمدی پاکستان میں کلمہ نہیں پڑھ سکتے اگر احمدیوں کا کلمہ کوئی اور تھا تو پھر کلمہ پڑھنے پر پابندی کیوں لگائی ادھر احمد یوں کی حالت یہ ہے کہ وہ باوجود منع کرنے کے پھر بھی کلمہ طیبہ لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ مُحَمَّدٌ رَّسُولُ اللہ پڑھنے سے باز نہیں آتے۔انہیں جیلوں کی سلاخوں کے پیچھے جانا منظور ہے، کال کوٹھریوں میں مصیبتوں کی زندگی گزارنا قبول ہے لیکن وہ حضرت بلال کی طرح کلمہ طیبہ سے اپنے آپ کو ہر گز جدا نہیں کر سکتے۔اگر یہ دیو بندی خدائی کا دعویٰ کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ احمدی بے شک اپنی کتابوں میں لا إلهَ إِلَّا اللهُ مُحَمَّدد سُولُ اللہ لکھتے ہیں بظاہر بولتے بھی ہیں لیکن دل میں بجائے محمد رسول اللہ کے احمد رسول اللہ بولتے ہیں تو ہمارا جواب خدائی کے ان دعویداروں سے یہ ہے کہ فتوی تو ہمیشہ کسی زبان کے اقرار پر لگایا جاتا ہے۔دل کی حالت پر نہیں کیونکہ دل کی بات صرف علیم و خبیر خدا ہی جانتا ہے۔یہاں تک کہ سردار دو جہاں حضرت محمد عربی صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی ہمیشہ ظاہر پر فتوی دیا ہے۔ایک جنگ کے موقعہ پر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ایک صحابی حضرت اُسامہ بن زید نے ایک کافر پر تلوار اُٹھائی اور اس نے بلند آواز سے کہا لا اله الا الله حضرت اُسامہ نے اس شخص کو اس لئے قتل کر دیا کہ ان کے خیال میں وہ کلمہ توحید کا اعلان دل سے نہیں کر رہا تھا بلکہ صرف جان بچانے کے لئے ایسا کر رہا تھا۔جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو اس بات کا علم ہوا تو آپ کا چہرہ مبارک سُرخ ہو گیا اور حضرت اُسامہ کو مخاطب کر کے بار بار فرمایا ”آفلا شَقَقْتَ عَنْ قَلْبِهِ حَتَّى تَعْلَمَ أَقَالَهَا أم لا“ (صحیح مسلم کتاب الایمان ) کہ اے 13