دینی معلومات کا بنیادی نصاب برائے انصاراللہ

by Other Authors

Page 63 of 313

دینی معلومات کا بنیادی نصاب برائے انصاراللہ — Page 63

63 جانے کی تخصیص کیوں کی جائے۔اگر اوپر کی طرف اُٹھانے کے ہی معنی کئے جائیں تب بھی قرآنی محاورہ کے مطابق اس کا مطلب عزت بخشا ہی ہوگا جیسا کہ حضرت ادریس علیہ السلام کے متعلق اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔ورَفَعْنَهُ مَكَانًا عَلِيًّا (مریم:۵۸) ہم نے اسے نہایت بلند مقام تک اُٹھایا تھا۔یعنی بڑا رتبہ عطا کیا تھا اور عزت بخشی تھی۔کیا یہ تسلیم کیا جائے کہ ادریس علیہ السلام بھی آسمان پر چلے گئے؟ اس کے علاوہ قرآن کریم نے وفات کا ذکر پہلے کیا ہے اور اُٹھانے کا بعد میں۔اگر یہ کہا جائے کہ عیسی علیہ السلام آسمان پر اُٹھائے گئے اور وہ وہاں زندہ ہیں کسی وقت دوبارہ زمین پر نازل ہوں گے اور پھر وفات پائیں گے تو ترتیب بدل جاتی ہے۔اس صورت میں ماننا پڑے گا کہ جس ترتیب سے واقعات کا ذکر قرآن کریم میں ہوا ہے وہ (نعوذ باللہ) غلط ہے۔قرآن کریم کی ترتیب کو نہ غلط قرار دیا جا سکتا ہے اور نہ بدلا جاسکتا ہے۔غرض رفع کے لفظ کے جو معنی بھی کئے جائیں ان سے عیسی علیہ السلام کا زندہ رہنا ثابت نہیں ہوتا کیونکہ وفات رفع سے پہلے ہے۔ہم نماز میں دعا کرتے ہیں۔وَارْفَعُنِی وَاجْبُرْنِی اے اللہ میرا رفع کر۔کیا اس کا یہ مطلب ہوتا ہے کہ مجھے آسمان پر اُٹھالے۔ہرگز نہیں۔اس کا مطلب صرف یہی ہے کہ میرے درجات بلند کر۔یہی معنی اس آیت میں عیسی علیہ السلام کے لئے کئے جائیں گے۔