دینی معلومات کا بنیادی نصاب برائے انصاراللہ

by Other Authors

Page 62 of 313

دینی معلومات کا بنیادی نصاب برائے انصاراللہ — Page 62

62 میں تجھے وفات دوں گا یعنی یہودی تجھے مار نہیں سکیں گے۔۲۔میں تجھے عزت دوں گا۔یہودی تجھے صلیب پر مار کر ذلیل نہیں کر سکتے۔بائبل میں لکھا ہے جو کا ٹھ پر ( یعنی صلیب پر ) مارا جائے وہ عنتی ہوتا ہے۔خدا فرماتا ہے کہ یہودی اس منصوبہ میں ہرگز کامیاب نہیں ہوں گے اور تجھے صلیب پر موت نہیں آئے گی جو تیری بے عزتی کا موجب ہو۔۔میں تجھے یہود کے الزامات سے پاک ٹھہراؤں گا۔۴۔میں تیرے ماننے والوں کو انکار کرنے والوں پر قیامت تک غلبہ عطا کروں گا یعنی عیسائی ہمیشہ یہود پر غالب رہیں گے۔یہ چاروں وعدے خدائے تعالیٰ نے اسی ترتیب سے پورے کر دیئے پہلے وفات دی پھر انجام بخیر کر کے اپنے حضور میں ان کو عزت بخشی اور ان کے درجات بلند کئے۔یہود کے تمام الزامات سے ان کو پاک ٹھہرایا اور ان کے ماننے والوں کو آج تک یہود پر غالب رکھا اور آئندہ بھی قیامت تک یہودی مغلوب رہیں گے۔اس آیت میں دافعت الم کے یہ معنی کرنے کہ میں تجھے اُٹھا کر آسمان پر لے جاؤں گا۔صراحتا غلط ہیں۔اوّل تو آسمان کا کہیں ذکر ہی نہیں۔دوسرے اگر رفع کے معنی اٹھانے کے ہی کئے جائیں ( جو اس جگہ بالکل بے جوڑ ہوں گے ) تب بھی لفظی معنی صرف یہ ہوں گے کہ میں تجھے اپنی طرف اٹھاؤں گا۔اب خدا کی کوئی جہت نہیں۔وہ ہر طرف اور ہر جگہ ہے۔اوپر کی طرف اٹھائے