دینی معلومات کا بنیادی نصاب برائے انصاراللہ — Page 61
61 ہوتے اور قبض روح صرف دو طرح ہوتا ہے۔وفات کے ذریعہ یا نیند کی حالت میں۔جب نیند کی حالت میں قبض روح مراد ہو تو اس کے لئے قرینہ موجود ہوتا ہے ورنہ توفی کے معنی ہمیشہ موت کے ہوتے ہیں۔عربی زبان میں ایک بھی ایسی مثال موجود نہیں جہاں تو فی کا لفظ ذی روح یعنی جاندار چیز کیلئے استعمال ہوا ہو اور خدا اس فعل کا فاعل ہو تو اس کے معنی قبض روح کے سوا کچھ اور بھی کئے جاسکتے ہوں۔دوسری دلیل إذ قال الله يُعِيسَى إِنِّي مُتَوَفِّيكَ وَ رَافِعُكَ إِلَيَّ وَمُطَهَّرُكَ مِن الذِينَ كَفَرُوا وَجَاعِلُ الَّذِينَ اتَّبَعُوكَ فَوْقَ الَّذِينَ كَفَرُوا إلى تذو القلمة (آل عمران : ۵۶) ترجمعہ: ” (اس وقت کو یاد کرو) جب اللہ نے کہا۔اے عیسی میں تجھے (طبیعی طور پر ) وفات دوں گا اور تجھے اپنے حضور میں عزت بخشوں گا اور کافروں کے الزامات) سے تجھے پاک کروں گا اور جو تیرے پیر و ہیں انہیں ان لوگوں پر جو منکر ہیں قیامت کے دن تک غالب رکھوں گا۔استدلال اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں عیسیٰ علیہ السلام سے چار وعدے کئے ہیں۔