دینی معلومات کا بنیادی نصاب برائے انصاراللہ — Page 127
127 اگر میت کو محفوظ رکھنے کی نیت سے ہو تو حرج نہیں ہے۔یعنی ایسی جگہ جہاں سیلاب وغیرہ کا اندیشہ ہو اور اس میں بھی تکلفات جائز نہیں ہیں“۔( ملفوظات جلد پنجم صفی ۴۳۳) قبروں پر چراغ جلانا ایک رسم جہالت کی یہ بھی ہے کہ بعض لوگ بزرگوں کے مزار پر رات کو چراغ جلاتے ہیں۔یہ ہندوانہ اور مشرکانہ بدعت ہے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے منع فرمایا ہے۔عَنْ ابْنِ عَبَّاسِ قَالَ قَالَ رَسُولُ الله الا الله لَعَنَ اللهُ زَائِرَاتِ الْقُبُورِ وَالْمُتَّخِذِينَ عَلَيْهَا الْمَسَاجِدَوَ السُّرُجَ- (ترندى) ابن عباس کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ تعالیٰ نے قبروں کی زیارت کرنے والی عورتوں پر لعنت کی اور ان پر جو قبروں پر مسجدیں بناتے اور ان پر چراغ جلاتے ہیں۔انحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے قبروں کی زیارت سے منع فرمایا تھا پھر آپ نے اس غرض سے اجازت دی کہ بندہ موت کو یاد کر کے خدا اور آخرت کی طرف رجوع کرے۔عورتوں کو ان امور کے بارے میں خاص احتیاط کرنی چاہئے۔بسا اوقات وہ کم علمی کی وجہ سے ان باتوں میں کوئی مضائقہ نہیں سمجھتیں۔