دینی معلومات کا بنیادی نصاب برائے انصاراللہ

by Other Authors

Page 175 of 313

دینی معلومات کا بنیادی نصاب برائے انصاراللہ — Page 175

175 چلا ئیں۔جیسے دنیاوی انجمنیں چلاتی ہیں۔اسی وجہ سے وہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی زندگی میں ہی لنگر خانہ کے انتظام اور سلسلہ کے دوسرے کاموں پر اعتراض کرتے رہتے تھے اور اخراجات کے بارے میں حضور کی ذات پر بھی نکتہ چینی کرنے سے گریز نہیں کرتے تھے۔حضور کی زندگی میں تو ان کی کچھ پیش نہیں گئی لیکن حضرت خلیفہ اول کی زندگی میں انہوں نے پر پُرزے نکالنے شروع کئے۔خلافت کے دور میں جو پہلا جلسہ سالانہ دسمبر ۱۹۰۸ء میں ہوا اس میں ایسی تقاریر کا انتظام کیا جس سے مقصود جماعت میں یہ خیال پیدا کرنا تھا کہ دراصل صدر انجمن احمد یہ ہی حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی جانشین اور خلیفہ ہے۔لیکن حضرت خلیفہ اول نے ان خیالات کی تردید کرتے ہوئے ضرورتِ خلافت اور اطاعت خلیفہ پر زور دیا اور فرمایا:۔تم نے خود میری بیعت نہیں کی بلکہ میرے مولیٰ نے تمہارے دلوں کو میری طرف جھکا دیا۔پس تمہیں میری فرمانبرداری ضروری ہے۔خواجہ صاحب اور مولوی محمد علی صاحب کے خیالات کی وجہ سے جماعت میں جو انتشار پیدا ہونے لگا تھا اس کے ازالہ کے لئے آپ نے ۳۱/ جنوری ۱۹۰۹ء کو نمائندگان جماعت کو قادیان میں طلب کیا اور واضح الفاظ میں یہ فیصلہ فرمایا کہ صدرانجمن تو محض ایک تنظیمی ادارہ ہے۔جماعت کا امام اور مطاع تو صرف خلیفہ ہی ہے۔اس اجتماع میں مندرجہ بالا دونوں حضرات سے