دینی معلومات کا بنیادی نصاب برائے انصاراللہ

by Other Authors

Page 163 of 313

دینی معلومات کا بنیادی نصاب برائے انصاراللہ — Page 163

163 بھی ہوش نہ تھا۔جو حالات کی نزاکت کا احساس رکھتے تھے ان میں استطاعت یہ تھی کہ مخالفین کے حملوں کا جواب دیتے۔ایسے حالات میں اللہ تعالیٰ نے حضرت مرزا غلام احمد صاحب کے دل میں یہ جوش ڈالا کہ آپ اسلام کی حقانیت کو دنیا پر واضح کریں۔چنانچہ آپ نے ایک کتاب براہین احمدیہ نامی تصنیف فرمائی اور تمام مذاہب کے پیروؤں کو چیلنج کیا کہ وہ حسن وخوبی اور براہین و دلائل میں قرآن کریم کا مقابلہ کر کے دس ہزار روپیہ کا انعام حاصل کریں لیکن کسی کو اس مقابلہ کی جرأت نہ ہوئی۔اس کتاب کی اشاعت نے مذہبی دنیا میں ایک تہلکہ مچادیا۔لوگ آپ کی تعریف میں رطب اللسان تھے اور مخالفین پر سکتہ کا عالم طاری ہو گیا تھا۔دعوی ماموریت و مسیحیت ۱۸۸۲ء میں اللہ تعالی کی طرف سے ماموریت کا پہلا الہام نازل ہوا۔اور آپ کو یہ علم دیا گیا کہ اس زمانہ میں تجدید دین اور احیائے اسلام کی خدمت آپ کے سپرد کی گئی ہے۔تاہم آپ نے با قاعدہ رنگ میں فوری طور پر کسی قسم کا دعویٰ نہیں کیا۔لیکن متواتر الہامات کے باعث ۱۸۸۵ء میں آپ نے اپنے آپ کو محض مجد دوقت کی حیثیت میں پیش کیا۔حالانکہ جو الہامات ۱۸۸۳ء میں اور اس کے بعد ہوئے ان میں آپ کو اللہ تعالیٰ نے صریح طور پر مسیح ، نبی اور نذیر کے ناموں سے یاد کیا تھا۔بات دراصل یہ ہے کہ آپ فدائیت کے نہایت اعلیٰ مقام پر تھے اور طبیعت میں اس درجہ انکسار پایا جاتا تھا کہ اللہ تعالیٰ کی طرف