دینی معلومات کا بنیادی نصاب برائے انصاراللہ

by Other Authors

Page 60 of 313

دینی معلومات کا بنیادی نصاب برائے انصاراللہ — Page 60

60 (موجود) رہا میں ان کا نگران رہا مگر جب تو نے میری روح قبض کر لی (یعنی وفات دے دی ) تو تو ہی ان پر نگران تھا میں نہ تھا ) اور تو ہر چیز پر نگران ہے۔استدلال اس آیت میں قال اللہ کے الفاظ استعمال ہوئے ہیں۔جس کے معنی ہیں اللہ نے کہا۔لیکن اس سے مراد قیامت کا دن ہے۔یعنی قیامت کے دن اللہ تعالی عیسی علیہ السلام سے دریافت کرے گا کہ کیا تم نے لوگوں کو یہ تعلیم دی تھی کہ مجھے اور میری ماں کو معبود بناؤ تو وہ جواب دیں گے کہ میں جب تک قوم میں موجود رہا وہ نہیں بگڑی تھی میں ان کا نگران تھا۔لیکن فَلَمَّا تَوَفِّيتَنِي جب تو نے مجھے وفات دے دی تو تو اُن کا نگران تھا مجھے ان کے بگڑنے کا کوئی علم نہیں۔عیسیٰ علیہ السلام کا یہ جواب اسی وقت درست ہوسکتا ہے جب یہ تسلیم کیا جائے کہ وہ وفات پا کر اپنی قوم سے ہمیشہ کیلئے جدا ہو گئے۔اگر یہ مانا جائے کہ قیامت سے قبل وہ دوبارہ دنیا میں آئیں گے تو پھر قیامت کے دن قوم کے بگڑنے سے ان کا لاعلمی کا اظہار جھوٹ ٹھہرتا ہے جو کسی طرح ممکن نہیں۔اس سے صاف پتہ لگتا ہے کہ وہ قوم کے بگڑنے سے قبل وفات پا گئے اور ان کے لئے دوبارہ دنیا میں آنا کسی طرح ممکن نہیں۔یا درکھنا چاہئے کہ لفظ توفی فعل ہے۔جب اس کا فاعل خدا ہو اور مفعول۔کوئی ذی روح ہو تو اس کے معنی سوائے قبض روح کے اور کچھ نہیں