دینی معلومات کا بنیادی نصاب برائے انصاراللہ — Page 43
43 کے تمھیں دن پورے کریں اور پھر روزے شروع کریں۔چاند کے دیکھے جانے کے بارے میں اگر یقینی اطلاع دوسری جگہ سے مل جائے تو اس کے مطابق عمل کرنا چاہئے۔اسی طرح چاند دیکھ کر ہی رمضان کا اختتام ہوتا ہے اور اگر مطلع ابر آلود ہو تو رمضان کے تمیں دن پورے کرے۔سوائے اس کے کہ دوسری جگہ سے یقینی اطلاع موصول ہو جائے۔۱۴۔قادیان اور ربوہ ہر احمدی کیلئے وطن ثانی کا حکم رکھتا ہے لیکن وطن ثانی کی طرف سفر بھی سفر ہی ہے۔اس لئے سفر میں روزہ رکھنا جائز نہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے افطاری کے وقت سے پہلے قادیان آنے والے روزہ داروں کا روزہ کھلوا دیا تھا۔اس تعامل سے معلوم ہوتا ہے کہ اگر روزہ رکھنے کے بعد سفر پیش آ جائے تو ایسی صورت میں روزہ کھول دینا چاہئے۔مرکز میں پہنچنے کے بعد دوسرے دن اگر کوئی چاہے تو روز ور کھ سکتا ہے۔۱۵۔بچوں کو روزہ نہیں رکھنے دینا چاہئے۔کیونکہ اس سے ذہنی اور جسمانی ارتقاء پر کیا اثر پڑتا ہے۔ہاں جب بچے کافی بڑے ہو جا ئیں تو بلوغت سے قبل معتدل موسم میں ایک دو روزے رکھنے میں مضائقہ نہیں۔۱۶ روزوں کی دوسری قسم وہ ہے جو ظلی کہلاتے ہیں۔مثلا ماہ شوال کے شروع میں چھ ، ہر ماہ چاند کی تیرہ، چودہ اور پندرہ تاریخ کو، پیر اور جمعرات کے دن۔عرفہ کے دن یعنی ماہ ذی الحجہ کی نویں تاریخ کو، اسی طرح عاشورہ کا روزہ بھی مسنون ہے۔