دینی معلومات کا بنیادی نصاب برائے انصاراللہ — Page 267
267 میں دوران سال تین نئی بیوت کی تعمیر مکمل ہوئی ہے۔اور ۲ بیوت کی توسیع ہوئی ہے۔ملیالم زبان کے ایک اخبار روزنامه Mathrubhuni نے اپنی ۲۸ نومبر ۲۰۰۸ ء کی اشاعت میں لکھا: وو رواداری کے قیام کی ضرورت ہے حضرت مرزا مسرور احمد ۲۹ نومبر ۲۰۰۸ء کو حضور انور نے ۵ بیوت الذکر کا افتتاح فرمایا۔بیت ارنا کولم۔بیت العافیت کو ڈونگلور (Kodubgallur)، بیت ناصر Alapuzha)، بیت محمود (Palluruth) اور بیت المہدی (Ayirapuram) ارنا کولم شہر ، جہاں بیت عمر تعمیر ہوئی ہے صوبہ کیرالہ کا بڑا تجارتی مرکز ہے۔اس علاقہ میں احمدیت کا پیغام ۱۹۳۳ء میں مولانا عبداللہ صاحب کے ذریعہ پہنچا۔۱۹۴۱ء میں یہاں با قاعدہ جماعت قائم ہوئی۔بیت عمر کی تعمیر پر ۵۰لاکھ روپے لاگت آئی۔بیت العافیت ایک مخلص احمدی خاتون اہلیہ مکرم احمد اسماعیل صاحب نے اپنے ذاتی خرچ پر تعمیر کرائی ہے۔بیت محمود ایک پرانی بیت کو مزید وسعت دے کر تعمیر کی گئی ہے۔بیت الہدی کی تعمیر پر ۱۸ لاکھ روپے لاگت آئی ہے۔بیوت الذکر کے افتتاح کے بعد حضور انور نے حاضرین سے اپنے خطاب میں فرمایا کہ بیوت الذکر اس بات کی یاد دہانی کروانے کے لئے ہیں کہ تمہاری حقوق اللہ اور حقوق العباد کی ادائیگی کی طرف توجہ پیدا ہو۔افتتاحی تقریب کے بعد فیملی ملاقاتیں شروع ہوئیں۔ملاقاتوں کے بعد