دینی معلومات کا بنیادی نصاب برائے انصاراللہ — Page 222
222 یہاں تک کہ بستر پر لیٹے ہوئے بیماروں کو بھی داعی الی اللہ بنا پڑے گا اور کچھ نہیں وہ دعاؤں کے ذریعہ دعوت الی اللہ کے جہاد میں شامل ہو سکتے ہیں۔دن رات اللہ سے گریہ وزاری کر سکتے ہیں کہ اے خدا ہمیں اتنی طاقت نہیں ہے کہ ہم چل پھر کر تبلیغ کرسکیں اس لئے بستر پر لیٹے لیٹے تجھ سے التجا کرتے ہیں کہ تو دلوں کو بدل دے“۔(الفضل ۳۱ مئی ۱۹۸۳ء صفه ۵،۴) امریکہ میں جب ایک مخلص احمدی ڈاکٹر مظفر احمد صاحب کو شہید کیا گیا تو حضور نے فرمایا:۔دعوت الی اللہ کی جو جوت میرے مولا نے میرے دل میں جگائی ہے اور آج ہزار ہا احمدی سینوں میں یہ کو جل رہی ہے اس کو مجھنے نہیں دینا۔اس کو بجھنے نہیں دینا۔تمہیں خدائے واحد و یگانہ کی قسم اس کو بجھنے نہیں دینا۔اس مقدس امانت کی حفاظت کرو میں خدائے ذوالجلال والاکرام کے نام کی قسم کھا کر کہتا ہوں اگر تم اس شمع نور کے امین بنے رہو گے تو خدا اسے کبھی بجھنے نہیں دے گا۔یہ کو بلند تر ہوگی اور پھیلے گی اور سینہ بہ سینہ روشن ہوتی چلی جائے گی اور تمام روئے زمین کوگھیر لے گی اور تمام تاریکیوں کو اجالوں میں بدل دے گی۔(الفضل ۲۲/ اگست ۱۹۸۳ء صفحه ۳) احمدیت کی نئی صدی میں داخل ہونے سے قبل جماعت کو دعوت الی اللہ کی