دینی معلومات کا بنیادی نصاب برائے انصاراللہ — Page 221
221 ہے۔یہ آپ ہی ہیں جنہوں نے دنیا کوموت کے بدلہ زندگی بخشنی ہے۔اگر آپ نے یہ کام نہ کیا تو مرنے والے مر جائیں گے اور اندھیروں میں بھٹکنے والے ہمیشہ بھٹکتے رہیں گے۔اس لئے اے محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کے غلامو! اور اے دین محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کے متوالو! اب اس خیال کو چھوڑ دو کہ تم کیا کرتے ہو اور تمہارے ذمہ کیا کام لگائے گئے ہیں۔تم میں سے ہر ایک مبلغ ہے اور ہر ایک خدا کے حضور اس بات کا جواب دہ ہوگا۔تمہارا کوئی بھی پیشہ ہو۔کوئی بھی تمہارا کام ہو۔دنیا کے کسی خطہ میں تم بس رہے ہو کسی قوم سے تمہارا تعلق ہو۔تمہارا اولین فرض یہ ہے کہ دنیا کو محمد مصطفیٰ کے رب کی طرف بلا ؤ اور ان کے اندھیروں کو نور میں بدل دو اور ان کی موت کو زندگی بخش دو“۔(الفضل ۱۲۳ مئی ۱۹۸۳ صفحه۱۰) اسی تسلسل میں آپ نے فرمایا :۔میں بار بار یہ اعلان کر رہا ہوں کہ داعی الی اللہ بنو۔دنیا کو نجات کی طرف بلاؤ۔دنیا کو اپنے رب کی طرف بلاؤ۔ورنہ اگر بے خدا انسان کے ہاتھ میں دوسروں کی تقدیر چلی جائے تو ان کی ہلاکت یقینی ہو جاتی ہے۔ہر احمدی بلا استثناء داعی الی اللہ بنے وہ وقت گزر گیا جب چند مبلغین پر انحصار کیا جاتا تھا۔اب تو بچوں کو بھی داعی الی اللہ بنا پڑے گا۔بوڑھوں کو بھی داعی الی اللہ بننا پڑے گا۔