دینی معلومات کا بنیادی نصاب برائے انصاراللہ

by Other Authors

Page 180 of 313

دینی معلومات کا بنیادی نصاب برائے انصاراللہ — Page 180

180 سے برکت پائیں گی۔چونکہ آپ کے بارے میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو بہت سی بشارات ملی تھیں اس لئے حضور آپ کا بہت خیال رکھتے۔کبھی آپ کو ڈانٹ ڈپٹ نہیں کی۔بچپن سے آپ کی طبیعت میں دین سے رغبت تھی۔دعا میں شغف تھا اور نمازیں بہت توجہ سے ادا کرتے تھے۔آپ نے ابتدائی تعلیم مدرسہ تعلیم الاسلام میں پائی۔صحت کی کمزوری اور نظر کی خرابی کے باعث آپ کی تعلیمی حالت اچھی نہ رہی اور آپ ہر جماعت میں رعایتی ترقی پاتے رہے۔مڈل اور انٹرنس (میٹرک) کے سرکاری امتحانوں میں فیل ہوئے اس طرح دنیوی تعلیم ختم ہو گئی۔اس درسی تعلیم کے بعد حضرت خلیفہ اُس الاول نے اپنی خاص تربیت میں لیا۔قرآن کریم کا ترجمہ تین ماہ میں پڑھا دیا۔پھر بخاری بھی تین ماہ میں پڑھا دی۔کچھ طب بھی پڑھائی اور چند عربی کے رسالے پڑھائے۔قرآنی علوم کا انکشاف تو موہبت الہی ہوتی ہے مگر یہ درست ہے کہ قرآن کریم کی چاٹ حضرت خلیفۃ اسبح الاول نے ہی لگائی۔جب آپ کی عمر ۱۷ ۱۸ سال کی تھی ایک دن خواب میں ایک فرشتہ ظاہر ہوا اور اس نے سورۃ فاتحہ کی تفسیر سکھائی۔اس کے بعد سے تفسیر قرآن کا علم خدا تعالیٰ خود عطا کرتا چلا گیا۔۱۹۰۶ء میں جب کہ آپ کی عمرے اسال تھی۔صدر انجمن احمدیہ کا قیام عمل میں آیا تو حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے آپ کو مجلس معتمدین کا رکن مقرر کیا۔۲۶ مئی ۱۹۰۸ ء کو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا جب وصال ہوا تو غم کا ایک پہاڑ آپ پر ٹوٹ پڑا۔تم اس بات کا تھا کہ سلسلہ کی مخالفت زور پکڑے گی اور لوگ