دینی معلومات کا بنیادی نصاب برائے انصاراللہ — Page 115
115 اکثر بد رسوم جو اس وقت رائج ہیں خوشی کی تقاریب مثلاً بچے کی شادی بیاہ وغیرہ سے تعلق رکھتی ہیں یا موت فوت سے۔کچھ ایسی ہیں جو معتقدات سے تعلق رکھتی ہیں۔ان سب کے بارے میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام اور آپ کے خلفاء نے جو راہنمائی فرمائی اس کا کچھ ذکر درج ذیل ہے۔بچے کی پیدائش سے متعلق رسوم بچے کی ولادت والدین کیلئے خوشی کا ایک اہم موقعہ ہوتا ہے اس موقعہ پر مناسب رنگ میں خوشی منانے سے اسلام نے منع نہیں کیا کیونکہ یہ ایک فطرتی جذبہ ہے۔اگر شکرانہ کے طور پر کچھ شرینی و غیر تقسیم کی <mark>جا</mark>ئے تو حرج نہیں لیکن ڈھول ڈھمکا، ناچ گانا کسی طرح بھی <mark>جا</mark>ئز نہیں۔اسلامی طریق یہ ہے کہ ساتویں دن عقیقہ کیا <mark>جا</mark>ئے یعنی لڑکے کی صورت میں دو بکرے اور لڑکی کی صورت میں ایک بکرا ذبح کیا <mark>جا</mark>ئے۔نومولود کے بال منڈوائے <mark>جا</mark>ئیں لیکن اگر کسی کو عقیقہ کی تو فیق نہیں تو ضروری نہیں۔بچے بالغ ہو کر خود بھی قربانی کر سکتے ہیں۔قربانی کا گوشت غرباء اور عزیز و اقارب میں تقسیم کیا <mark>جا</mark>ئے۔خود بھی استعمال کر سکتے ہیں۔لڑکا ہو تو ختنہ بھی ساتھ ہی کروادینا مناسب ہے۔سالگرہ منانا بچوں سے متعلق ایک رسم یہ ہے کہ ہر سال تاریخ پیدائش پر سالگرہ منائی <mark>جا</mark>تی ہے۔دعوت کا اہتمام ہوتا ہے۔تحفے تحائف پیش کئے <mark>جا</mark>تے ہیں اور بہت