دینی معلومات کا بنیادی نصاب برائے انصاراللہ

by Other Authors

Page 95 of 313

دینی معلومات کا بنیادی نصاب برائے انصاراللہ — Page 95

95 اس پیشگوئی کے مطابق ۱۹۰۳ء میں حضرت شہزادہ سید عبداللطیف صاحب اور مولوی عبد الرحمن صاحب جو کابل کے رہنے والے تھے افغانستان کے شاہی خاندان کے حکم سے صرف اس وجہ سے سنگسار کر دیئے گئے انہوں نے احمدیت کو قبول کر لیا تھا۔یہ کارروائی امیر حبیب اللہ خاں کے دور میں ہوئی۔پھر یکم جنوری ۱۹۰۶ء کو الہام ہوا:۔تین بکرے ذبح کئے جائیں گے“۔( تذکرہ صفحہ ۵۸۲ طبع دوم ) چنانچہ یہ الہام ۱۹۲۴ء میں اس طرح پورا ہوا کہ افغانستان کے اسی شاہی خاندان کے آخری حکمران امیر امان اللہ خاں کے حکم سے جماعت احمدیہ کے تین اور افراد یعنی حضرت مولوی نعمت اللہ خاں صاحب، حضرت مولوی عبدالحکیم صاحب اور ملا نور علی صاحب صرف احمدیت کی وجہ سے شہید کر دیئے گئے۔اول الذکر ۳۱/ اگست ۱۹۲۴ء کو شہید کئے گئے اور دوسرے دو افراد۲/ فروری ۱۹۲۵ء کو شہید کئے گئے۔اللہ تعالیٰ کے علم میں تھا کہ افغانستان کا یہ شاہی خاندان بیگناہ احمدیوں کے خون سے ہاتھ رنگے گا اس لئے علام الغیوب خدا نے ایک اور خبر آہ نادر شاہ کہاں گیا“ کے الفاظ میں دی اور فرمایا کہ یہ خاندان اپنے کئے کی سزا بھگتے گا۔چنانچہ ۱۹۲۹ء میں ایک نہایت ہی معمولی شخص حبیب اللہ خاں المعروف بچہ سقہ کے ہاتھوں اس خاندان کا تخت اُلٹ گیا اور وہ وطن چھوڑنے پر مجبور ہو گئے۔اس وقت نادر خاں نامی ایک جرنیل فرانس میں بیمار پڑا تھا افغانوں نے اس کو بلایا اور وہ افغانستان کا بادشاہ بن گیا۔اس نے