دینی معلومات کا بنیادی نصاب برائے انصاراللہ — Page 80
80 اے آدم کے بیٹو! ہر مسجد کے قریب زینت (کے سامان ) اختیار کر لیا کرو اور کھاؤ اور پیو اور اسراف نہ کرو۔کیونکہ وہ ( اللہ ) اسراف کرنے والوں کو پسند نہیں کرتا۔اس جگہ مسجد میں زینت اختیار کرنے کا حکم امت محمدیہ کو ہے لیکن خطاب بنی آدم کہہ کر کیا گیا ہے۔چوتھی آیت هدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ صِرَاطَ الَّذِينَ أَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ : غيْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ وَلَا الضَّايِّينَهُ ( سورۃ فاتحہ آیت ۶۔۷) ترجمعہ: (اے اللہ ) ہمیں سیدھے راستے پر چلا۔ان لوگوں کے راستے پر جن پر تو نے انعام کیا جن پر نہ تو ( بعد میں تیرا ) غضب نازل ہوا ( ہے ) اور نہ وہ (بعد میں ) گمراہ ( ہو گئے ) ہیں۔“ استدلال اس آیت میں ہمیں یہ دعا سکھائی گئی ہے کہ ہم انعام یافتہ گروہ کے راستہ پر چلیں اور انعام پائیں۔قرآن کریم سورۃ نساء آیت ۶۹ - ۷۰ میں (جس کی تشریح پہلی آیت میں اوپر آچکی ہے ) اس بات کا ذکر کیا گیا ہے کہ انعام پانے والے وہ لوگ ہوتے ہیں جنہیں نبوت، صدیقیت ، شہادت اور صالحیت کے