دینی معلومات کا بنیادی نصاب برائے انصاراللہ

by Other Authors

Page 158 of 313

دینی معلومات کا بنیادی نصاب برائے انصاراللہ — Page 158

158 حالات بہت ناموافق تھے۔عوام کا مطالبہ تھا کہ حضرت عثمان کے قاتلوں سے بدلہ لیا جائے۔حضرت طلحہ اور حضرت زبیر بھی اسی خیال کے مؤید تھے لیکن حضرت علیؓ محسوس کرتے تھے کہ باغیوں کا اس وقت بہت زور ہے جب تک امن وسکون نہ ہو حکومت کیلئے قصاص کی کارروائی کرنا بہت مشکل ہے۔حضرت طلحہ اور حضرت زبیر جیسے ذی اثر صحابہ فوری بدلہ لینے کے بڑے حامی تھے۔حضرت عبداللہ بن عمر نے انہیں بہت سمجھایا کہ خلیفہ وقت کے خلاف کھڑا ہونا مناسب نہیں لیکن انہوں نے اس نصیحت کی کوئی قدر نہ کی۔جنگ جمل حضرت عائشہ کو حالات کا پوری طرح علم نہ تھا وہ بھی اس امر کی تائید میں تھیں کہ قاتلین عثمان سے فوری انتقام لیا جائے۔حضرت علیؓ نے بہت کوشش کی کہ باہمی جنگ و جدال کا دروازہ نہ کھلے لیکن تمام کوششیں بریکار گئیں اور فریقین میں خونریز جنگ ہو کر رہی۔حضرت طلحہ اور حضرت زبیر اگر چہ حضرت عائشہ کی طرف سے جنگ کیلئے میدان میں آئے لیکن جنگ ہونے سے قبل ہی لشکر سے الگ ہو گئے تاہم کسی مخالف کے ہاتھوں مارے گئے اور حضرت عائشہ کے لشکر کو شکست ہوگئی تاہم فتح کے بعد حضرت علیؓ نے ان کی حفاظت کا پورا اہتمام کیا اور جب وہ مدینہ جانے لگیں تو خود الوداع کہنے گئے۔چونکہ اس جنگ میں حضرت عائشہ ایک اونٹ پر سوار تھیں اس لئے اس جنگ کو جنگ جمل کہتے ہیں۔( جمل کے معنی اونٹ کے ہیں ) حضرت عائشہ کو بعد میں ساری عمر اس