دینی معلومات کا بنیادی نصاب برائے انصاراللہ — Page 117
117 کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تو کوئی حرام نہیں“۔( ملفوظات جلد نهم صفحه ۴۸۱) ناچ گانا ، بینڈ باجے اور آتشبازی بیاہ شادی کی بدر سوم کے متعلق حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں:۔”ہماری قوم میں ایک یہ بھی بد رسم ہے کہ شادیوں میں صدہا رو پیکا فضول خرچ ہوتا ہے۔سویا درکھنا چاہئے کہ شیخی اور بڑائی کے طور پر برادری میں بھاجی تقسیم کرنا اور اس کا دینا اور کھانا یہ دونوں باتیں عند الشرع حرام ہیں اور آتشبازی چلانا اور رنڈیوں، بھڑوں، ڈوم ڈھاریوں کو دینا حرام مطلق ہے۔ناحق روپیہ ضائع جاتا ہے اور گناہ سر پر چڑھتا ہے سو اس کے علاوہ شرع شریف میں تو صرف اتنا حکم ہے کہ نکاح کرنے والا بعد نکاح کے ولیمہ کرے یعنی چند دوستوں کو کھانا پکا کر کھلا دیوے“۔(ملفوظات جلد 9 صفحہ ۴۶۔۴۷) با جا بجانے کے سلسلے میں فرمایا :۔دو باجوں کا وجود آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلّم کے زمانہ میں نہ تھا۔اعلان نکاح جس میں فسق و فجور نہ ہو جائز ہے۔حضرت خلیفہ المسیح الثانی نے فرمایا:۔( ملفوظات جلد پنجم صفحه ۳۱۲)