دینی نصاب — Page 82
سینکڑوں شریف گھرانوں کے لڑکوں کو گویا اورسینکڑوں شریف گھرانوں کی لڑکیوں کو ناچنے والی بنادیا ہے اور سنیما ملک کے اخلاق پر ایسا تباہ کن اثر ڈال رہے ہیں، میں سمجھتا ہوں کہ میرا منع کرنا تو الگ رہا اگر میں ممانعت نہ کروں تو بھی مومن کی رُوح کو خود بخو داس سے بغاوت کرنی چاہئیے۔( مطالبات صفحہ ۲۷ تا ۴۱) حضرت خلیفہ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرماتے ہیں:۔”آج کل کی برائیوں میں سے ایک بُرائی ٹی وی کے بعض پروگرام ہیں، انٹر نیٹ پر غلط قسم کے پروگرام ہیں، فلمیں ہیں۔اگر آپ نے اپنے بچوں کی نگرانی نہیں کی اور انہیں ان لغویات میں پڑا رہنے دیا تو پھر بڑے ہو کر یہ بچے آپ کے ہاتھ میں نہیں رہیں گے۔۔۔اس لئے کبھی یہ نہ سمجھیں کہ معمولی سی غلطی پر بچے کو کچھ نہیں کہنا، ٹال دینا ہے،اس کی حمایت کرنی ہے۔ہر غلطی پر اس کو سمجھانا چاہئیے۔آپ کے سپر دصرف آپ کے بچے نہیں ہیں ، قوم کی امانت آپ کے سپرد ہے۔احمدیت کے مستقبل کے معمار آپ کے سپرد ہیں۔ان کی تربیت آپ نے کرنی ہے۔پس خاص طور پر اللہ تعالیٰ کے حضور جھکتے ہوئے اس سے مدد مانگتے ہوئے اپنے عمل سے بھی اور سمجھاتے ہوئے بھی بچوں کو تربیت کریں اور پھر میں کہتا ہوں اپنی ذمہ داری کو سمجھیں اور اپنے عہد بیعت کو جو آپ نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے کیا ہے اپنے آپ کو بھی دنیاوی لغویات سے پاک کریں۔۔۔اور اپنے بچوں کے لئے جنت کی ٹھنڈی ہواؤں کے سامان پیدا کریں۔اللہ تعالیٰ آپ کو اس کی توفیق عطا فرمائے۔آمین ( الازھار لذوات الخما رجلد سوم حصہ اول صفحہ 372،371) اس زمانہ میں ٹیلی ویژن کی وجہ سے سنیما جانے کی ضرورت نہیں پڑتی۔گھر میں بیٹھے بیٹھے ڈرامے دیکھے جاسکتے ہیں۔سنیما، ٹیلی ویژن اور انٹرنیٹ اپنی ذات میں تو برے نہیں لیکن اس 82