دینی نصاب — Page 80
حضرت خلیفہ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرماتے ہیں:۔پھر آجکل کی لغویات میں سے ایک چیز سگریٹ وغیرہ بھی ہیں جیسا کہ مختصر سا میں پہلے ذکر کر آیا ہوں۔نوجوانوں میں اس کی عادت پڑتی ہے اور پھر تمام زندگی یہ جان نہیں چھوڑتی سوائے ان کے جن کی قوت ارادی مضبوط ہو۔اور پھر سگریٹ کی وجہ سے بعض لوگوں کو اور نشوں کی عادت بھی پڑ جاتی ہے۔تو وہ لوگ جو اس لغو عادت میں مبتلا ہیں کوشش کریں کہ اس سے جان چھڑائیں۔اور والدین خاص طور پر بچوں پر نظر رکھیں کیونکہ آجکل بچوں کو نشوں کی با قاعدہ پلاننگ کے ذریعے عادت بھی ڈالی جاتی ہے۔اور پھر آہستہ آہستہ یہ ہو جاتا ہے کہ بیچارے بچوں کے برے حال ہو جاتے ہیں۔آپ یہاں بھی دیکھیں کس قدر لوگ ان نشوں کی وجہ سے اپنی زندگیاں برباد کر رہے ہیں۔ایک بہت بڑی تعدادان ملکوں میں جن میں آپ رہ رہے ہیں، آپ دیکھیں گے سگریٹ پینے کی وجہ سے حشیش یا دوسرے نشوں میں مبتلا ہو گئی۔اور اپنے کاموں سے بھی گئے، اپنی ملازمتوں سے بھی گئے ، اپنی نوکریوں سے بھی گئے ، اپنے کاروباروں سے بھی گئے، اپنے گھروں سے بھی بے گھر ہوئے اور زندگیاں برباد ہوئیں۔بیوی بچوں کو بھی مشکل میں ڈالا۔خود پارکوں، فٹ پاتھوں یاپکلیوں کے نیچے زندگیاں گزار رہے ہیں۔گندے غلیظ حالت میں ہوتے ہیں۔لوگوں کے آگے ہاتھ پھیلا رہے ہوتے ہیں۔ڈسٹ بنوں (Dustbins) سے گلی سڑی چیزیں چن چن کے کھارہے ہوتے ہیں۔تو یہ سب اس لغو عادت کی وجہ سے ہی ہے۔اس لئے کسی بھی لغو چیز کو چھوٹا نہیں سمجھنا چاہئے۔یہی چھوٹی چھوٹی باتیں پھر بڑی بن جایا کرتی ہیں۔80