دینی نصاب — Page 50
اس کو لعان کہتے ہیں۔لعان کے بعد ان کا نکاح فسخ ہو جائے گا اور ان کا آپس میں کوئی تعلق نہیں رہے گا۔اور مہر مرد کو دینا پڑے گا۔اگر مرد قسم نہ کھائے اور کہہ دے کہ میں نے جھوٹ بولا تو اسے ۸۰ کوڑے لگائے جائیں گے۔اور اگر عورت قسم نہ کھائے اور کہے کہ یہ الزام صحیح ہے اور میں مجرم ہوں تو پھر اسے زنا کی سزا دی جائے گی۔سود اسلام نے سود کو حرام قرار دیا ہے۔جو شخص کسی سے سود لیتا ہے۔خواہ سود کم ہو یا زیادہ وہ لعنتی ہے۔بلکہ جو گواہ ہوں وہ بھی لعنتی ہیں۔سود ایک ایسا لعنت کا طوق ہے کہ اگر کسی کے گلے میں پڑ جائے تو پھر اس کی اس سے رہائی ناممکن ہے۔دیکھا گیا ہے کہ اگر کسی کے باپ نے سود پر روپیہ لیا تو وہ بھی اس کو ادا کرتا مر گیا مگر روپیہ ادانہ ہو سکا۔پھر اس کی اولاد اس کو ادا کرتی چلی گئی مگر پھر بھی وہ ادا نہ ہو سکا۔لہذا اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو سود کی لعنت سے بچانے کیلئے سود کو حرام قرار دے دیا ہے۔اور فرمایا ہے کہ جو مسلمان سود لیتا ہے یا دیتا ہے وہ گو یا اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول (صلی اللہ علیہ وسلم ) سے لڑائی کرتا ہے۔اور ہر عقلمند یہ جانتا ہے کہ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول (صلی اللہ علیہ وسلم ) سے مقابلہ کر کے کوئی شخص کبھی کامیاب نہیں ہوسکتا۔بعض لوگ کہتے ہیں کہ سود کے بغیر گزارہ نہیں ہوسکتا۔یہ بات غلط ہے اور ایک شیطانی وسوسہ سے زیادہ حقیقت نہیں رکھتی۔اگر کوئی شخص نیک نیتی سے سود کے بغیر بھی گزارہ کرنا چاہے تو ہوسکتا ہے۔50