دینی نصاب — Page 33
۱۲۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے سوال کیا گیا کہ روزہ دار آنکھ میں سرمہ ڈالے یا نہ ڈالے۔فرمایا:۔ہے 66 مکروہ ہے اور ایسی ضرورت ہی کیا ہے کہ دن کے وقت سُرمہ لگائے۔رات سُرمہ لگا سکتا ( ملفوظات جلد نهم صفحه ۱۷۳) ۱۳ - رمضان کی ابتداء چاند دیکھنے سے ہوتی ہے۔اگر مطلع صاف نہ ہو تو شعبان کے تیس دن پورے کریں اور پھر روزے شروع کریں۔چاند کے دیکھے جانے کے بارے میں اگر یقینی اطلاع دوسری جگہ سے مل جائے تو اس کے مطابق عمل کرنا چاہئیے۔اسی طرح چاند دیکھ کر ہی رمضان کا اختتام ہوتا ہے۔اور اگر مطلع ابر آلو ہو تو رمضان کے تیس دن پورے کریں۔سوائے اس کے کہ دوسری جگہ سے یقینی اطلاع موصول ہو جائے۔۱۴۔قادیان اور ربوہ ہر احمدی کے لئے وطن ثانی کا حکم رکھتا ہے لیکن وطن ثانی کی طرف سفر بھی سفر ہی ہے۔اس لئے سفر میں روزہ رکھنا جائز نہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے افطاری کے وقت سے پہلے قادیان آنے والے روزہ داروں کا روزہ کھلوادیا تھا۔اس تعامل سے معلوم ہوتا ہے کہ اگر روزہ رکھنے کے بعد سفر پیش آجائے تو ایسی صورت میں روزہ کھول دینا چاہئیے۔مرکز میں پہنچنے کے بعد دوسرے دن اگر کوئی چاہے تو روزہ رکھ سکتا ہے۔۱۵ - بچوں کو روزہ نہیں رکھنے دینا چاہیئے۔کیونکہ اس سے ذہنی اور جسمانی ارتقاء پر بُرا اثر پڑتا ہے۔ہاں جب بچے کافی بڑے ہوجائیں تو بلوغت سے قبل معتدل موسم میں ایک دو روزے رکھنے میں مضائقہ نہیں۔۱۶۔روزوں کی دوسری قسم وہ ہے جو نفلی کہلاتے ہیں۔مثلاً ماہ شوال کے شروع میں چھ، ہر ماہ چاند کی تیرہ، چودہ اور پندرہ تاریخ کو ، پیر اور جمعرات کے دن عرفہ کے دن یعنی ماہ ذی الحجہ کی نویں تاریخ کو ، اسی طرح عاشورہ کا روزہ بھی مسنون ہے۔33