دینی نصاب

by Other Authors

Page 32 of 377

دینی نصاب — Page 32

وو یہ سوال ہی غلط ہے۔بیمار کے واسطے روزے رکھنے کا حکم نہیں“ ( بدر 7 فروری 1907 صفحہ 4 بحوالہ فقہ المسیح صفحہ 217 ، روزہ اور رمضان ) ۸۔جو شخص سفر یا بیماری میں روزہ رکھتا ہے وہ بھی خدا کے حکم کی نافرمانی کرتا ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں:۔۹۔مریض اور مسافر اگر روزہ رکھیں گے تو ان پر حکم عدولی کا فتویٰ لازم آئے گا۔( بدر۱۷ را کتوبر ۱۹۰۷ء بحوالہ فقہ احمد یہ جلد اول صفحہ 290) جو شخص صحت کی حالت میں ہے لیکن اسے خوف ہے کہ اگر میں روزہ رکھوں گا تو بیمار ہو جاؤں گا تو ایسا خوف محض نفس کا دھوکہ ہے اور ہر گز شرعی عذر نہیں۔ہاں اگر طبیب کہتا ہے کہ روزہ نہ رکھو تو وہ بیمار کے حکم میں ہے۔۱۰۔جس شخص کا سفر ملازمت کے فرائض میں داخل ہے یا روزی کمانے کیلئے ہے جیسے ریلوے کے ملازم یا گاڑی کے ڈرائیور یا پھیری والے ان سب کو روزہ رکھنا چاہیئے۔ان کا سفر سفر نہیں بلکہ معمول کی حالت ہے۔۱۔جولوگ مزدور پیشہ یا زمیندار پیشہ ہیں اور رمضان میں انہیں ایسی مشقت کا کام پڑ جائے کہ اگر چھوڑیں تو 4 ماہ کی فصل ضائع ہو جائے اور اگر کام کریں تو روزہ نہ رکھ سکیں تو وہ مجبور کے حکم میں ہیں۔مزدور پیشہ کو چاہیے کہ وہ باقی سال کے گیارہ مہینہ اس قدر محنت کرے کہ رمضان میں آرام کر سکے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے ایسے کاشت کاروں اور مزدوروں کے بارے میں جن کا گزارہ مزدوری پر ہے اور روزہ ان سے نہیں رکھا جاتا۔فرمایا:۔إِنَّمَا الْأَعْمَالُ بِالنِّيَّاتِ۔یہ لوگ اپنی حالتوں کو مخفی رکھتے ہیں۔ہر شخص تقویٰ و طہارت سے اپنی حالت سوچ لے۔اگر کوئی اپنی جگہ مزدوری پر رکھ سکتا ہے تو ایسا کرے ورنہ مریض کے حکم میں ہے۔پھر جب میتر ہو رکھ لے“۔( ملفوظات جلد نهم صفحه ۳۹۴) 32