دینی نصاب — Page 334
نوجوانوں کی ذہنی صلاحیتوں کو اُجاگر کرنے کے لئے ان کے بھی کئی ایک شعبے ہیں۔جن میں تعلیم و تربیت ، اصلاح وارشاد، خدمت خلق، وقار عمل وغیرہ شامل ہیں۔ہر خادم جو برسر روزگار ہے سو روپیہ پر ایک روپیہ چندہ ادا کرتا ہے۔جبکہ طلباء سے ایک روپیہ ماہوار چندہ مجلس وصول کیا جاتا ہے۔مجلس اطفال الاحمدیہ اپنا چندہ الگ جمع کرتی ہے جس کی شرح ایک روپیہ ماہوار ہے۔آداب مساجد ماجد اللہ تعالیٰ سے دُعائیں اور مناجات کرنے کی جگہیں ہیں اور خدا تعالیٰ کے انوار اور برکات کی تجلی گاہ ہیں۔یہ مومنوں کو ایک مرکز پر متحد کرنے کا بھی ذریعہ ہیں اس لئے ان کا بہت ادب و احترام کرنا چاہئے اور ان کے تقدس و احترام کے منافی کوئی کام نہیں کرنا چاہئیے۔چند آداب ذیل میں تحریر کئے جاتے ہیں:۔* مسجد میں صاف کپڑے پہن کر آنا چاہیے۔خوشبولگا کر آنا پسندیدہ امر ہے۔* مسجد کو صاف ستھرا رکھنا چاہئیے۔صفیں پاک وصاف ہوں۔خوشبو جلانا بھی مستحسن ہے۔* مسجد میں کوئی ایسی چیز کھا کر نہیں آنا چاہئیے جس سے بو آتی ہو جیسے پیاز ،مولی لہسن وغیرہ۔(مسلم کتاب الصلوۃ باب نهى أكل الثوم) * مسجد میں شور شرابا نہیں کرنا چاہئیے۔دینی امور کے علاوہ دنیوی امور سے پر ہیز کرنا * چاہیئے۔(ابوداؤ د کتاب الصلوۃ باب التحلق يوم الجمعة ) مسجد میں داخل ہوتے اور باہر نکلتے مسنون دعا پڑھنی چاہیے جو یہ ہے:۔اللَّهُمَّ اغْفِرْلِي ذُنُوبِي وَافْتَحْ لِي أَبْوَابَ رَحمتك اور با ہر نکتے وقت رحمتك کی جگہ فضلك کہنا چاہیئے۔مسجد میں داخل ہوتے وقت دایاں پاؤں اندر رکھے اور باہر نکلتے وقت بایاں پاؤں باہر نکالے۔334