دینی نصاب — Page 245
نشینوں، پیروں فقیروں کو مقابلہ کی دعوت دی۔مباحثات ومناظرات کا ایک سلسلہ شروع ہو گیا۔اور لوگوں پر آپ کی صداقت منکشف ہوتی چلی گئی۔پھر آپ نے مکفر علماء کو دعوت مباہلہ بھی دی کہ اگر چاہیں تو اس رنگ میں خدائے تعالیٰ کے فیصلہ کو دیکھ لیں۔علماء کے علاوہ دوسرے مذاہب کے لیڈروں اور نمائندوں کو بھی مقابلہ کے لئے للکارا۔ہندوؤں میں سے پنڈت لیکھرام ، عیسائیوں میں سے پادری عبداللہ آتھم اور امریکہ کا جھوٹا مدعی نبوت ڈاکٹر الیگزینڈر ڈوئی اور مسلمانوں میں سے رسل بابا امرتسری، چراغدین جمونی، رشید احمد گنگوہی ، عبدالرحمن محی الدین لکھو کے والے مولوی غلام دستگیر قصوری، محمد حسین بھینی والا وغیرہ ھم مقابلہ کر کے حسب پیشگوئی ہلاک ہوئے اور آپ کے منجانب اللہ ہونے پر مہر تصدیق ثبت کر گئے۔پھر آپ نے قبولیت دعا کا حربہ استعمال کیا اور تمام مذاہب کے لوگوں کو یہ دعوت دی کہ اگر ان کا مذہب سچا ہے تو مقبولیت کا نشان مقابلہ میں دکھا ئیں مگر کسی کو اس مقابلہ کی ہمت نہ ہوئی۔غرض قبولیت دعا علمی مقابلوں ، تائیدات سمادی اور بکثرت امور غیبیہ کے اظہار کے ذریعہ ثابت کیا کہ زندہ نبی ہمارے سید و مولی محمد مصطفے صلی اللہ علیہ وسلم ہیں اور زندہ مذہب صرف اسلام ہے۔اسلام کی حقانیت اور اپنے دعوی کی صداقت کو ظاہر کرنے کیلئے آپ نے کم و بیش اسی کتب اُردو اور عربی میں تصنیف فرما ئیں۔ہزار ہا اشتہارات مختلف ممالک میں شائع فرمائے اور سینکڑوں تقاریر اسلام کی تائید میں کیں۔بادشاہوں اور امراء کو خطوط لکھے اور انہیں دعوت حق دی۔پھر آپ نے مسلمانوں کے غلط عقائد کی اصلاح کی اور تجدید دین کا کام اس رنگ میں کیا جس رنگ میں مسیح و مہدی کیلئے کرنا مقدر تھا۔نہ صرف زمین پر آپ کی صداقت کے نشان ظاہر ہوئے بلکہ آسمان نے بھی اس کی گواہی دی۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ظہور مہدی کیلئے جو یہ علامت بیان فرمائی تھی کہ رمضان کے مہینہ میں چاند کو اس کی گرہن کی راتوں میں سے پہلی رات کو اور سورج کو اس کے گرہن کے مقررہ دنوں میں سے درمیانے دن گرہن لگے گا۔عین اس پیشگوئی کے مطابق مشرقی 245