دینی نصاب

by Other Authors

Page 191 of 377

دینی نصاب — Page 191

مخالف ہے۔تین خداؤں کا ہونا دو حالتوں سے خالی نہیں۔یا تو وہ تینوں اپنی اپنی جگہ کامل ہیں یعنی تمام خدائی صفات کو کامل طور پر اپنے اندر رکھتے ہیں اور یا وہ کامل نہیں بلکہ تینوں مل کر کامل بنتے ہیں۔صورت اوّل میں تین خداؤں کا ہونا ایک عبث فعل ہے۔کیونکہ جب ان تینوں میں سے ہر ایک کامل ہے تو پھر ہر اک الگ الگ اس کا رخانہ کو چلا سکتا ہے پس کوئی وجہ نہیں کہ جہاں ایک خدا کام دے سکے وہاں تین خدا کام کریں۔اور اگر وہ الگ الگ کامل نہیں اور فرداً فرداً اس کارخانہ کو چلانے کے قابل نہیں تو اس صورت میں وہ سب ناقص ہیں اور خدا نہیں ہو سکتے۔اس قسم کے دلائل کے ساتھ آپ نے عقلاً تثلیث کے عقیدہ کا بطلان ثابت کیا اور یہ بھی ثابت کیا کہ انجیل جس پر مسیحیوں کا سارا دارو مدار ہے ہرگز تثلیث کے عقیدہ کی تائید نہیں کرتی بلکہ اس کی اصل تعلیم تو حید پر قائم تھی۔اس طرح الوہیت مسیح کے عقیدہ پر آپ نے وہ ضر میں لگائیں کہ خدا ثابت کرنا تو در کنار عیسائیوں کو مسیح ناصری کا ایک کامل بشر ثابت کرنا بھی مشکل ہو گیا۔پھر کفارہ پر وہ مضامین لکھے کہ خود بعض مسیحیوں کو اقرار کرنا پڑا کہ وہ زبردست مضامین لا جواب ہیں۔آپ نے ثابت کیا کہ کفارہ کا مسئلہ فطرت کے خلاف ہے۔زید کے خون سے بکر کے گناہوں کی معافی ایک ایسا خیال ہے جسے عقل دُور سے ہی دھکے دیتی ہے۔آپ نے ثابت کیا کہ گناہ صرف ایمان اور یقین سے دور ہو سکتا ہے اُسے کسی خونی قربانی کی ضرورت نہیں اور نقلی طریق سے بھی آپ نے اس خیال کا بطلان ثابت کیا۔اسی طرح رحم بلا مبادلہ کے فرضی عقیدہ کی بھی دھجیاں اڑا دیں۔غرض آپ نے مسیحیت کے متعلق عقل اور نقل دونوں کی رو سے نہایت مدلل اور سیر کن بخشیں کی ہیں اور اس پر ایسی کاری ضربیں لگائی ہیں کہ اس کا جانبر ہونا مشکل ہے۔اس نقلی اور عقلی بحث کے علاوہ ایک اور نہایت عظیم الشان کام تھا جو آپ نے انجام دیا اور گو یا مسیحیت کی عمارت کو بنیادوں سے اُٹھا کر دے مارا۔یہ آپ کی وہ عظیم الشان تاریخی تحقیق 191