دینی نصاب — Page 177
سب سے پہلا اختلاف یہ تھا کہ عام طور پر مسلمانوں میں یہ عقیدہ رائج ہو چکا تھا کہ خدا قدیم زمانہ میں تو بے شک اپنے بندوں کے ساتھ کلام کرتا تھا لیکن اب نہیں کرتا۔گویا وہ سنتا تو ہے مگر بولتا نہیں۔آپ نے فیصلہ فرمایا اور دلائل عقلیہ و نقلیہ سے قطعی طور پر ثابت کر دیا کہ خدا کے متعلق ایسا گمان کرنا سخت الحاد ہے کہ اس کی قوت گویائی اب باطل ہوگئی ہے۔آپ نے بتایا کہ اگر خدا بولتا نہیں تو اسلام بھی ایک مُردہ مذہب ہے اور اس کا دارومدار بھی دوسرے مذہب کی طرح محض قصوں پر رہ جاتا ہے جو ایک عاشق زار اور حق کے متلاشی کی پیاس کو ہرگز بجھا نہیں سکتے اور آپ نے ثابت کیا کہ اسلام اور قرآن اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا شیریں پھل ہمیشہ جاری ہے اور جیسا کہ قرآن مجید نے بتایا ہے کہ لَهُمُ الْبُشْرَى فِي الْحَيَوةِ الدُّنْيَاده پھل یہی ہے کہ سچی اتباع کرنے والے کو خدا اپنے ذاتی تعلق سے نوازتا ہے اور اسے حسب استعداد اپنے مکالمہ مخاطبہ سے مشرف کرتا ہے اور آپ نے اپنے ذاتی مشاہدہ سے اس مسئلہ کو روز روشن کی طرح ثابت کر دیا۔دوسرا اختلاف خدا کے متعلق یہ تھا کہ جب تک خدا نے کسی کے متعلق عذاب کا فیصلہ نہ کیا ہو اُس وقت تک تو وہ بے شک رحمت نازل کر سکتا ہے۔مگر عذاب کے بعد وہ تو بہ واستغفار پر بھی عذاب کے فیصلہ کو بدل کر رحمت نازل نہیں کر سکتا۔بلکہ وہ نعوذ باللہ مجبور ہے کہ اپنے پہلے فیصلہ کے مطابق عمل کرے۔آپ نے اس مسئلہ کو بھی عقل اور نقل ہر دو لحاظ سے صاف کیا اور ثابت کر دیا کہ یہ جھوٹا عقیدہ خدا کی قدرت کاملہ اور اس کی وسیع رحمت ہر دو کے منافی ہے۔اسی لئے خدا فرماتا ہے کہ وَاللهُ غَالِبٌ عَلَى أَمْرِي پھر خدا کے متعلق یہ اختلاف تھا کہ گویا اس نے بنی اسرائیل اور بنی اسماعیل کے سوا کسی اور اُمت میں رسول نہیں بھیجا اور اپنی رحمت کیلئے بس انہی دو گروہوں کو مخصوص کر لیا۔مگر آپ نے بدلائل اس خیال کا باطل ہونا ظاہر کیا اور عقل اور نقل سے یہ بات ثابت کر دی کہ ہر امت نے خدا 177