دینی نصاب — Page 88
کے زہر سے محفوظ رہ سکیں گی۔ان ممالک میں رہ کر والدین کو بچوں کو دین سے جوڑنے اور حیا کی حفاظت کے لئے بہت زیادہ جہاد کی ضرورت ہے۔اس کے لئے اپنے نمونے بھی دکھانے ہوں گے۔۔۔۔پس ہمیشہ یادرکھنا چاہئے کہ حیا کے لئے حیا دار لباس ضروری ہے اور پردہ کا اس وقت رائج طریق حیادار لباس کا ہی ایک حصہ ہے۔اگر پردہ میں نرمی کریں گے تو پھر اپنے حیادار لباس میں بھی کئی عذر کر کے تبدیلیاں پیدا کر لیں گی اور پھر اس معاشرے میں رنگین ہو جائیں گی جہاں پہلے ہی بے حیائی بڑھتی چلی جا رہی ہے۔۔۔ہم احمدیوں کو ہمیشہ یہ یاد رکھنا چاہئے کہ یہ زمانہ بہت خطرناک زمانہ ہے۔شیطان ہر طرف سے پرزور حملے کر رہا ہے۔اگر مسلمانوں اور خاص طور پر احمدی مسلمانوں، مردوں اور عورتوں ، نوجوانوں سب نے مذہبی اقدار کو قائم رکھنے کی کوشش نہ کی تو پھر ہمارے بچنے کی کوئی ضمانت نہیں ہے۔۔۔۔اسلام کی ترقی کے لئے ہر وہ چیز ضروری ہے جس کا خدا تعالیٰ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا ہے۔پردہ کی سختیاں صرف عورتوں کے لئے نہیں ہیں۔اسلام کی پابندیاں صرف عورتوں کے لئے نہیں ہیں بلکہ مردوں اور عورتوں دونوں کو حکم ہے۔اللہ تعالیٰ نے پہلے مردوں کو حیا اور پردے کا طریق بتایا تھا۔چنانچہ فرمایا کہ قُلْ لِلْمُؤْمِنِينَ يَغُضُّوا مِنْ اَبْصَارِهِمْ وَيَحْفَظُوا فُرُوْجَهُمْ ذَلِكَ أَزْكَى لَهُمْ إِنَّ اللهَ خَبِيرٌ بِمَا يَصْنَعُونَ (النور: 31) مومنوں کو کہہ دے کہ اپنی آنکھیں نیچی رکھیں اور اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کیا کریں۔یہ بات ان کے لئے زیادہ پاکیزگی کا موجب ہے۔یقینا اللہ جو وہ کرتے ہیں اس سے ہمیشہ باخبر رہتا ہے۔88