دینی نصاب — Page 81
اور اب تو افیون سے بھی زیادہ خطر ناک نشے پیدا ہو چکے ہیں۔پس ان لغویات سے بچنے والے ہی تقویٰ پر قائم رہ سکتے ہیں۔۔تو شراب کا جو نشئی ہے وہ بھی مختلف جرائم میں گرفتار ہوتا ہے۔بلکہ ان ملکوں میں بھی جہاں شراب کی اجازت ہے آپ دیکھیں گے کہ بعض لوگ نشے میں بعض قسم کی حرکات کر جاتے ہیں اور پھر جیلوں میں چلے جاتے ہیں۔اور پھر یہاں کے معاشرے کے مطابق بعض شریف لوگ بظاہر شراب کے نشے میں دھت ہوتے ہیں اور سڑکوں پہ گرے پڑے ہوتے ہیں ، پولیس ان کو اٹھا کے لے جاتی ہے۔پھر جوا وغیرہ ہے یہ بھی لغویات ہیں۔یہ بھی اسی وجہ سے پیدا ہوتی ہیں۔شرابیوں کو عام طور پر جوا کھیلنے کی بھی عادت ہوتی ہے۔کسی بھی نشہ کرنے والے کو 66 عادت ہوتی ہے تاکہ زیادہ سے زیادہ پیسے بنیں۔“ سنیما، تھیٹر،انٹرنیٹ: (خطبات مسر در جلد دوم صفحه 597 تا599 مطبوعه از قادیان) مغربی ممالک میں جو بے راہ روی پیدا ہو چکی ہے اور فحاشی جس حد تک ان کے معاشرہ میں سرایت کر چکی ہے موجودہ دور میں ان کے مناظر سنیما کے پردہ پر دکھائے جاتے ہیں جو نئی نسل میں مذہب سے دوری اور بداخلاقی کا میلان پیدا کرتے ہیں۔روپیہ اور وقت کا ضیاع اس کے علاوہ ہے۔انہیں خرابیوں کے پیش نظر حضرت خلیفتہ المسیح الثانی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:۔ا۔اس کے متعلق میں جماعت کو حکم دیتا ہوں کہ کوئی احمدی سنیما ،سرکس تھیڑ وغیرہ غرضیکہ کسی تماشے میں بالکل نہ جائے اور اس سے بکلی پر ہیز کرے۔ہر مخلص احمدی جو میری بیعت کی قدر و قیمت سمجھتا ہے اس کے لئے سنیما یا کوئی تماشہ وغیرہ دیکھنا یا کسی کو دکھانا جائز نہیں“۔۲۔سنیما کے متعلق میرا خیال ہے کہ اس زمانہ کی بدترین لعنت ہے۔اس نے 81