دینی نصاب — Page 75
قرآن وحدیث سے ثابت نہیں اس کے بدعت اور لغو ہونے میں کوئی شک نہیں“۔نذرونیاز کیلئے قبرستان جانا اور پختہ قبریں بنانا : ( بدر اگست ۱۹۰۹ء) اس بارے میں حضرت حجتہ اللہ مسیح موعود علیہ السلام کا ارشاد ہے:۔نذرو نیاز کیلئے قبروں پر جانا اور وہاں جا کر منتیں مانگنا درست نہیں ہے۔ہاں وہاں جا کر عبرت سیکھے اور اپنی موت کو یاد کرے تو جائز ہے۔قبروں کے پختہ بنانے کی ممانعت ہے۔البتہ اگر میت کو محفوظ رکھنے کی نیت سے ہو تو حرج نہیں ہے۔یعنی ایسی جگہ جہاں سیلاب وغیرہ کا اندیشہ ہو اور اس میں بھی تکلفات جائز نہیں ہیں۔( ملفوظات جلد پنجم صفحه ۴۳۳) قبروں پر چراغ جلانا : ایک رسم جہالت کی یہ بھی ہیکہ بعض لوگ بزرگوں کے مزار پر رات کو چراغ جلاتے ہیں۔یہ ہندوانہ اور مشرکانہ بدعت ہے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے منع فرمایا ہے۔عَنِ ابْنِ عَبَّاس قَالَ قَالَ رَسُولُ الله صلى اللهُ عَلَيهِ وَسَلَّمَ لَعَنَ اللهُ زائِرَاتِ الْقُبُورِ وَالْمُتَخِذِينَ عَلَيْهَا الْمَسَاجِدَ وَالسُّرُجَ ( ترندى) ابن عباس کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے قبروں کی زیارت کرنے والی عورتوں پر لعنت کی اور ان پر جو قبروں پر مسجدیں بناتے اور ان پر چراغ جلاتے ہیں۔پہلے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے قبروں کی زیارت سے منع فرمایا تھا پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس غرض سے اجازت دی کہ بندہ موت کو یاد کر کے خدا اور آخرت کی طرف رجوع 75