دینی نصاب — Page 249
خلافت احمدیہ اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو خلافت راشدہ کا وعدہ دیا ہے چنانچہ سورہ نور کی آیت ۵۶ میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے وَعَدَ اللهُ الَّذِينَ آمَنُوا مِنْكُمْ وَعَمِلُوا الصَّلِحَتِ لَيَسْتَخْلِفَنَّهُمْ فِي الْأَرْضِ كَمَا اسْتَخْلَفَ الَّذِينَ مِنْ قَبْلِهِمْ ۖ وَلَيُمَكِّنَنَّ لَهُمْ دِينَهُمُ الَّذِي ارْتَضَى لَهُمْ وَلَيُبَدِّلَنَّهُمْ مِّنْ بَعْدِ خَوْفِهِمْ آمَنَّاء يَعْبُدُونَنِي لَا يُشْرِكُونَ بِي شَيْئًا وَمَنْ كَفَرَ بَعْدَ ذَلِكَ فَأُولَبِكَ هُمُ الْفُسِقُونَ ترجمہ: اللہ نے تم میں سے ایمان لانے والوں اور مناسب حال عمل کرنے والوں سے وعدہ فرمایا ہے کہ وہ اُن کو زمین میں خلیفہ بنادے گا جس طرح ان سے پہلے لوگوں کو خلیفہ بنا دیا گیا تھا۔اور جو دین اُس نے اُن کے لئے پسند کیا ہے وہ اُن کیلئے اُسے مضبوطی سے قائم کر دے گا اور اُن کے خوف کی حالت کے بعد وہ ان کیلئے امن کی حالت تبدیل کر دے گا۔وہ میری عبادت کریں گے اور کسی چیز کو میرا شریک نہیں بنائیں گے اور جولوگ اس کے بعد بھی انکار کریں گے وہ نافرمانوں میں سے قرار دیئے جائیں گے۔لیکن یاد رکھنا چاہئیے کہ یہ وعدہ چار ذمہ داریوں کے ساتھ مشروط ہے۔اول یہ کہ مسلمانوں کی جماعت اللہ تعالیٰ کی طرف سے خلافتِ راشدہ کے قیام کے وعدہ پر ایمان رکھتی ہو۔دوم یہ کہ خلافت حقہ کی منشاء کے مطابق اعمالِ صالحہ پر کار بند ہو۔سوم یہ کہ توحید کے قیام کیلئے ہر قسم کی قربانیاں دینے کی صلاحیت رکھتی ہو۔چہارم یہ کہ ہر حال میں خلیفہ وقت کی اطاعت کو مقدم رکھتے ہوئے اباء واستکبار کے انجام کو جو آخر کا رفسق تک پہنچا دیتا ہے ہمیشہ ملحوظ 249