دینی نصاب — Page 190
ایسی منہ کی کھائی کہ پھر سر نہ اُٹھایا۔ہاں اپنی بد باطنی کا ایک ریکارڈ چھوڑ گیا۔حضرت مرزا صاحب نے اُس کے اعتراضات کی دھجیاں اُڑادیں۔(نور القرآن) اس کے بعد پھر کسی پادری کو یہ جرات نہ ہوئی کہ آپ کے سامنے آتا مگر آپ نے اپنا کام جاری رکھا اور نور الحق سراج الدین عیسائی کے چار سوالوں کا جواب اور کتاب البریہ جیسی نہایت زبر دست کتابیں تصنیف فرما ئیں اور بالآخر ۱۹۰۰ ء میں پنجاب کے لارڈ بشپ ریورنڈ جارج لیفر ائے لاہور کو چیلنج دیکر عیسائیوں پر حجت پوری کی۔اس چیلنج میں آپ کی تحریک سے احمدیوں کی ایک جماعت نے بشپ صاحب کو ایک تحریری درخواست دی جس میں لکھا کہ چونکہ آپ اس ملک میں تمام مسیحیوں کے سردار ہیں اور آپ کا فرض منصبی بھی ہے کہ طالبانِ حق کی تسلی کرائیں اور آپ ایک طرح سے مسلمانوں کو مباحثہ کا چیلینج بھی دے چکے ہیں لہذا ہم آپکو آپ کے یسوع مسیح کی قسم دے کر کہتے ہیں کہ اس موقعہ پر پیچھے نہ ہٹیں اور حق و باطل کا فیصلہ ہونے دیں اور اسلام اور مسیحیت کی صداقت کے متعلق حضرت مرزا صاحب کے ساتھ بمقام لاہور ایک با قاعدہ مباحثہ کر کے مخلوق خدا پر احسان فرما ئیں۔غرض بڑے جوش دلانے والے الفاظ میں بشپ صاحب کو مباحثہ کی طرف بلایا گیا مگر بشپ صاحب کو ہمت نہ ہوئی اور انہوں نے حیلے بہانے کر کے بات ٹال دی۔( ریویو آف ریلیجنز آف قادیان) اس کے بعد ۱۹۰۲ء میں حضرت مرزا صاحب نے یورپ اور امریکہ میں تکمیل تبلیغ اسلام کیلئے ایک انگریزی رسالہ ریویو آف ریلیجنز جاری کروایا اور اس میں صداقت اسلام اور ردّ عقائد میسحیت کے متعلق ایسے ایسے زبر دست اور لا جواب مضامین لکھے کہ مسیحیوں کے لمبے دانت کھٹے کر دیئے۔کئی غیر متعصب عیسائیوں نے ان مضامین کے بے نظیر ہونے کا اعتراف کیا۔آپ نے عقل اور نقل سے یہ ثابت کر دیا کہ تثلیث کا عقیدہ خود بائبل کے مخالف ہونے کے علاوہ اور پھر علاوہ اس بات کے کہ فطرت انسانی اسے دُور سے ہی دھکے دیتی ہے عقل کے بھی صریح 190