دینی نصاب — Page 4
اکمال دین ہو چکا اور وہ نعمت بمرتبہ اتمام پہنچ چکی جس کے ذریعہ سے انسان راہ 66 راست کو اختیار کر کے خدائے تعالیٰ تک پہنچ سکتا ہے۔“ (ازالہ اوہام حصہ اول، روحانی خزائن جلد ۳ صفحه ۱۶۹، صفحه ۱۷۰) نوع انسان کے لئے رُوئے زمین پر اب کوئی کتاب نہیں مگر قرآن اور تمام آدم زادوں کے لئے اب کوئی رسول اور شفیع نہیں مگر محمدمصطفی صلی اللہ علیہ وسلم “ کشتی نوح - روحانی خزائن جلد ۱۹ صفحه ۱۳) " آنحضرت خاتم النبیین ہیں اور قرآن شریف خاتم الکتب۔اب کوئی اور کلمہ یا کوئی اور نماز نہیں ہو سکتی۔جو کچھ آنحضرت صلی یا یہ تم نے فرمایا یا کر کے دکھایا اور جو قرآن شریف میں ہے۔اس کو چھوڑ کر نجات نہیں مل سکتی جو اس کو چھوڑے گا جہنم میں جائے گا۔یہ ہمارا مذہب اور عقیدہ ہے۔" ( ملفوظات جلد ۸ صفحه ۲۵۲) اور ہم اپنی جماعت کو نصیحت کرتے ہیں کہ وہ بچے دل سے اس کلمہ طیبہ پر ایمان رکھیں کہ لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ مُحَمَّدٌ رَّسُولُ اللہ اور اسی پر مریں۔اور تمام انبیاء اور تمام کتابیں جن کی سچائی قرآن شریف سے ثابت ہے ان سب پر ایمان لاویں اور صوم وصلوٰۃ اور زکوۃ اور حج اور خدا تعالیٰ اور اس کے رسول کے مقرر کردہ تمام فرائض کو فرائض سمجھ کر اور تمام منہیات کو منہیات سمجھ کر ٹھیک ٹھیک اسلام پر کار بند ہوں۔اور ہم آسمان اور زمین کو اس بات پر گواہ کرتے ہیں کہ یہی ہمارا مذہب ہے۔“ ایام الصلح ، روحانی خزائن جلد ۱۴ صفحه ۳۲۳) ”ہماری کتاب بجز قرآن کریم کے نہیں اور ہمارا رسول بحجر محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کے نہیں ہے اور ہمارا کوئی دین بجز اسلام کے نہیں ہے۔اور ہم اس بات پر ایمان رکھتے ہیں کہ ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم خاتم الانبیاء اور قرآن شریف خاتم الکتب 4