دینی نصاب — Page 150
سے ایک فردمراد نہیں بلکہ ایک کثیر التعداد گر وہ مراد ہے جو اس زمانہ میں مسیحی اقوام کی صورت میں ظاہر ہوا ہے یہ ہیں :- ا۔لغت میں دقبال ایک بڑی جماعت کو کہتے ہیں۔پس وہ ایک فرد نہیں ہوسکتا۔۲۔جو فتنے دجال کی طرف منسوب کئے گئے ہیں اور جو طاقتیں اس کے اندر بیان کی گئی ہیں ان کا فرد واحد میں پایا جانا محالات عقلی میں سے ہے۔۔دجال کی کیفیت جن الفاظ میں بیان کی گئی ہے اس پر غور کرنے سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ اس پیشگوئی میں مجاز اور استعارہ کا دخل ہے ورنہ نعوذ باللہ دجال میں بعض خدائی طاقتیں ماننی پڑتی ہیں۔۴- دجال کی تمام کیفیات عملاً عیسائی اقوام میں پائی جاتی ہیں۔۵- دجال کا فتنہ سب سے بڑا فتنہ بتایا گیا ہے اور ادھر ہم دیکھتے ہیں کہ مسیحی اقوام کے مادیت اور فلسفہ نے جو فتنہ آج کل بر پا کر رکھا ہے ایسا فتنہ دین وایمان کیلئے نہ پہلے ہوا اور نہ آئندہ خیال میں آسکتا ہے اور سورہ فاتحہ کے مطالعہ سے بھی سب سے بڑا فتنہ عیسائیت کا فتنہ ہی ثابت ہوتا ہے۔۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ابن صیاد کے متعلق جو مدینہ کا ایک یہودی لڑکا تھا اور بعد میں مسلمان ہو گیا د قبال ہونے کا شبہ کیا تھا بلکہ حضرت عمرؓ نے آپ کے سامنے اس بات پر قسم کھائی تھی کہ یہی اللہ جال ہے اور آپ نے اس کی تردید نہیں فرمائی۔(ملاحظہ ہو مشکوۃ قصہ ابن صیاد ) حالانکہ ابن صیاد میں دجال کی علامات ماثورہ میں سے اکثر بالکل مفقود تھیں۔جس سے صاف ثابت ہوتا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور صحابہ کرام بھی اس پیشگوئی کو مجازی رنگ میں سمجھتے تھے اور تمام علامات کا ظاہری اور جسمانی طور پر پایا جانا ہر گز ضروری نہ سمجھتے تھے۔150