دینی نصاب — Page 133
میں منافق پیدا ہوتا ہے نہ کہ سچا مومن۔پھر اسلام جبر کی اجازت کس طرح دے سکتا ہے؟ اب یہاں ایک اور سوال پیدا ہوتا ہے اور وہ یہ کہ جب قرآن شریف کھلے الفاظ میں تلوار کے ذریعہ لوگوں کو اسلام کے اندر داخل کرنے سے منع فرماتا ہے اور مذہبی معاملات میں جبر کی اجازت نہیں دیتا تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے کیوں تلوار اُٹھائی؟ یہ ایک سوال ہے جو اس موقع پر ضرور دل میں پیدا ہوتا ہے۔اسکا حقیقی جواب پانے کیلئے ہمیں چاہئیے کہ قرآن شریف کی اس آیت پر نظر ڈالیں جس میں سب سے پہلے مسلمانوں کو تلوار اٹھانے کی اجازت دی گئی تھی۔خدا تعالیٰ فرماتا ہے:۔أُذِنَ لِلَّذِينَ يُقَاتَلُونَ بِأَنَّهُمْ ظُلِمُوا وَإِنَّ اللَّهَ عَلَى نَصْرِهِمْ لَقَدِيرٌ O الَّذِينَ أُخْرِجُوا مِنْ دِيَارِهِمْ بِغَيْرِ حَقٍ إِلَّا أَنْ يَقُولُوا رَبُّنَا اللهُ ، وَلَوْلَا دَفْعُ اللَّهِ النَّاسَ بَعْضَهُمْ بِبَعْضٍ لَّهُدِّمَتْ صَوَامِعُ وَبِيَعٌ وَصَلَوَاتٌ وَمَسَاجِدُ يُذْكَرُ فِيهَا اسْمُ اللَّهِ كَثِيرًا - (سورۃ حج رکوع ۶ ) یعنی اجازت دی جاتی ہے لڑنے کی ان لوگوں کو جن کے خلاف کافروں کی طرف سے تلوار اٹھائی گئی ہے۔کیونکہ اُن پر ظلم کیا گیا ہے اور بیشک اللہ ان کی مدد پر قادر ہے۔ہاں وہی مظلوم جو اپنے گھروں سے نکالے گئے بغیر کسی جائز وجہ کے صرف اس بنا پر کہ انہوں نے کہا کہ ہمارا رب اللہ ہے اور اگر اللہ تعالیٰ لوگوں کو دفاعی جنگ کی اجازت دیکر ایک دوسرے کے ہاتھ سے نہ روکے تو پھر خانقاہیں اور گرجے اور معبد اور مسجدیں جن میں خدا کا نام کثرت سے یاد کیا جاتا ہے وہ سب ایک دوسرے کے ہاتھوں مسمار کر دیئے جائیں“۔یہ وہ آیت کریمہ ہے جس نے سب سے پہلے مسلمانوں کو کفار کے مقابل پر لڑنے کی اجازت دی۔اب دیکھ لو کہ اس آیت میں کس صراحت کے ساتھ اللہ تعالیٰ نے لڑائی کی وجہ بیان فرمائی ہے جو یہ ہے کہ فتنہ دور ہو کر مذہبی آزادی پیدا ہو۔اور یہ بھی صاف طور پر فرما دیا ہے 133