دینی نصاب

by Other Authors

Page 112 of 377

دینی نصاب — Page 112

فرد ہو گا جیسا کہ منگم کے لفظ سے ظاہر ہے۔بے شک آنے والے کو ابن مریم کے نام سے یاد کیا گیا ہے مگر منگم کا لفظ پکار پکار کر کہہ رہا ہے کہ یہ ابن مریم وہ نہیں جو پہلے ہوگز را بلکہ اے مسلمانو! یہ تمہیں میں سے ایک شخص ہوگا۔یہ آگے چل کر بتایا جائے گا کہ ابن مریم کے الفاظ استعمال کرنے میں کونسا بھید تھا مگر فی الحال ناظرین اتنا دیکھیں کہ کیا منکم کے لفظ نے مسیح ناصری کی آمد ثانی کے عقیدہ کو جڑ سے کاٹ کر نہیں رکھ دیا؟ ہائے افسوس ! حضرت خاتم التبيين صلی اللہ علیہ وسلم صاف لفظوں میں خبر دے رہے ہیں کہ مسیح موعود اسی امت میں سے ہوگا مگر مسلمان مسیح ناصری کی محبت میں اس شرک کے مقام تک پہنچ چکے ہیں کہ خواہ مخواہ اپنی اصلاح کیلئے بنی اسرائیل کے قدموں پر گر رہے ہیں۔خدا اس قوم پر رحم کرے کہ یہ خیر الامت ہو کر کہاں آکر گری۔غرض مسیح موعود کے متعلق اِمَامُكُمْ مِنْكُمْ کے الفاظ فرما کر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے سارے جھگڑے کا فیصلہ کر دیا ہے اور شک و شبہ کی کوئی گنجائش نہیں چھوڑی مگر آپ کی شفقت کو دیکھو کہ باوجود صاف لفظوں میں فرما دینے کے آنے والا مسیح میری امت میں سے ہی ایک فرد ہوگا۔آپ اس مسئلہ پر خاموش نہیں ہوئے بلکہ مزید تشریح فرمائی۔چنانچہ فرماتے ہیں:۔رَأَيْتُ عِيسَى وَمُوسَى فَأَمَّا عِيسَى فَأَحْمَرُ جَعْدٌ عَرِيضُ الصَّدْرِ وَأَمَّا مُوسَى فَأَدَمُ جَسِيمٌ سَبْطُ الشَّعْرِ كَأَنَّهُ مِنْ رِجَالِ الزُّطِ - ( بخاری جلد ۲ کتاب بدء الخلق ) یعنی میں نے کشف میں عیسیٰ اور موسیٰ علیہما السلام دونوں کو دیکھا۔عیسی تو سرخ رنگ کے تھے اور ان کے بال گھنگر الے تھے اور سینہ چوڑا تھا اور موسیٰ گندم گوں رنگ کے تھے اور بھاری جسم والے تھے اور ایسا معلوم ہوتا تھا کہ جیسے کوئی شخص رھا قبیلہ میں سے ہے۔“ 112