دینی نصاب — Page 87
احمدی مستورات بے پردگی کے خلاف جہاد کا اعلان کریں کیونکہ اگر آپ نے بھی یہ میدان چھوڑ دیا تو پھر دنیا میں اور کون سی عورتیں ہوں گی جو اسلامی اقدار کی حفاظت 66 کے لئے آگے آئیں گی۔“ (الفضل ۲۸ رفروری ۱۹۸۳ء) سید نا حضرت خلیفہ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ حیا ایمان کا حصہ ہے۔( صحیح البخاری کتاب الایمان باب امور الایمان حدیث 9)۔پس حیا دار لباس اور پردہ ہمارے ایمان کو بچانے کے لئے ضروری ہے۔اگر ترقی یافتہ ملک آزادی اور ترقی کے نام پر اپنی حیا کو ختم کر رہے ہیں تو اس کی وجہ یہ ہے کہ یہ دین سے بھی دُور ہٹ چکے ہیں۔پس ایک احمدی بچی جس نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو مانا ہے اس نے یہ عہد کیا ہے کہ میں دین کو دنیا پر مقدم رکھوں گی۔ایک احمدی بچے نے جس نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو مانا ہے، ایک احمدی شخص نے ، مرد نے عورت نے مانا ہے، اس نے دین کو دنیا پر مقدم کرنے کا عہد کیا ہے اور یہ مقدم رکھنا اُسی وقت ہوگا جب دین کی تعلیم کے مطابق عمل کریں گے۔۔۔پس ہر احمدی لڑکی لڑکے اور مرد اور عورت کو اپنی حیا کے معیار اونچے کرتے ہوئے معاشرے کے گند سے بچنے کی کوشش کرنی چاہئے نہ کہ یہ سوال یا اس بات پر احساس کمتری کا خیال کہ پردہ کیوں ضروری ہے؟ کیوں ہم ٹائٹ چین اور بلاؤز نہیں پہن سکتیں؟ یہ والدین اور خاص طور پر ماؤں کا کام ہے کہ چھوٹی عمر سے ہی بچوں کو اسلامی تعلیم اور معاشرے کی برائیوں کے بارے میں بتائیں تبھی ہماری نسلیں دین پر قائم رہ سکیں گی اور نام نہاد ترقی یافتہ معاشرے 87