دینی نصاب — Page 78
ضامن باندھتے ہیں۔یا تعویذ لکھ کر دیتے ہیں۔اور قسم قسم کی قربانیاں کرنے کیلئے کہتے ہیں اور مختلف قسم کے عمل بتلاتے ہیں۔جو نہایت مضحکہ خیز ہوتے ہیں۔خود ہی کچھ وہم دلوں میں پیدا کرتے ہیں اور پھر ان کا علاج تجویز کرتے ہیں جہلاء کا تو ذکر کیا اچھے پڑھے لکھے اور سمجھدار لوگ تعویذوں پر اعتقادر رکھتے اور گلے میں ڈالتے ، یا بازوؤں پر باندھتے ہیں۔اسی طریق کے مطابق ایک دن رام پور کے ایک شخص نے کچھ حاجات تحریری طور پر حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی خدمت میں پیش کیں۔حضور نے فرمایا :- فرمایا:- ”اچھا ہم دُعا کریں گے۔وہ شخص حیران ہو کر پوچھنے لگا۔آپ نے میری عرضداشت کا جواب نہیں دیا۔حضور نے ”ہم نے تو کہا ہے کہ ہم دُعا کریں گے۔اس پر وہ شخص کہنے لگا۔حضور کوئی تعویذ نہیں کیا کرتے ؟ حضور نے فرمایا:۔تعویذ گنڈے کرنا ہمارا کام نہیں۔ہمارا کام تو صرف اللہ تعالیٰ کے حضور دُعا ( ملفوظات جلد دہم صفحہ ۲۰۳) کرنا ہے۔“ ,, حضرت خلیفہ امسح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العز یز فرماتے ہیں :۔پیروں فقیروں کے پاس جاکر تعویذ گنڈے لینے سے بچیں۔۔۔آپ کو اکثر ایسی مثالیں نظر آئیں گی کہ پیروں فقیروں کے پاس جا کر تعویذ لئے جاتے ہیں کسی نے بہو کے خلاف لینا ہے کسی نے ساس کے خلاف کسی نے ہمسائی کے خلاف تعویذ لینا ہے کسی نے خاوند کے حق میں تعویذ لینا ہے۔بے تحاشہ بدرسمیں پیدا ہو چکی ہیں۔یہ سب عورتوں کی بیماریاں ہیں۔یہ شرک کی طرف بڑی جلدی مائل ہو جاتی ہیں۔۔۔اور یہ بھی کہ اللہ تعالیٰ کو کچھ نہ سمجھنا۔نماز اور دعا کی طرف توجہ نہ ہونا۔فکر 78