دینی نصاب — Page 77
تقسیم کرتے ہیں۔اگر یہ للہ بہ نیت ایصال ثواب ہو تو اس کے متعلق حضور کا کیا ارشاد ہے۔فرمایا:- ایسے کاموں کے لئے دن اور وقت مقرر کر دینا ایک رسم و بدعت ہے اور آہستہ آہستہ ایسی رسمیں شرک کی طرف لے جاتی ہیں۔پس اس سے پر ہیز کرنا چاہیئے کیونکہ ایسی رسموں کا انجام اچھا نہیں۔ابتداء میں اسی خیال سے ہوا مگر اب تو اس نے شرک اور غیر اللہ کے نام کا رنگ اختیار کر لیا ہے۔اس لئے ہم اسے ناجائز قرار دیتے ہیں۔جب تک ایسی رسوم کا قلع قمع نہ ہو عقائد باطلہ دور نہیں ہوتے“۔تسبیح کا استعمال ( ملفوظات جلد نم صفحه ۲۱۴) عام طور پر دیکھا جاتا ہے کہ بعض لوگ چلتے پھرتے اور مجلس میں بیٹھے تسبیح کے دانے گنتے رہتے ہیں۔اور یہ تاثر دیتے ہیں کہ گویا وہ ہر لحظہ ذکر الہی میں مصروف ہیں۔اس بارے میں حضور نے فرمایا:۔دو تسبیح کرنے والے کا اصل مقصود گنتی ہوتا ہے اور وہ اس گنتی کو پورا کرنا چاہتا ہے۔اب تم خود سمجھ سکتے ہو کہ یا تو وہ گنتی پوری کرے اور یا توجہ کرے۔اور یہ صاف بات ہے کہ گنتی کو پوری کرنے کی فکر کرنے والا سچی توبہ کر ہی نہیں سکتا ہے۔انبیاء علیہم السلام اور کاملین لوگ جن کو اللہ تعالیٰ کی محبت کا ذوق ہوتا ہے اور جو اللہ تعالیٰ کے عشق میں فنا شدہ ہوتے ہیں انہوں نے گفتی نہیں کی اور نہ اس کی ضرورت سمجھی“۔تعویذ گنڈے ( ملفوظات جلد ہفتم صفحہ ۱۸) فقراء اور صوفیاء کا ایک طریق یہ ہے کہ بیماریوں سے شفایابی، مشکلات کے دُور ہونے ، خوشحالی کے حصول اور مقاصد میں کامیابی کیلئے یا سفر وغیرہ میں محفوظ رہنے کیلئے امام 77