دینی نصاب — Page 335
* مسجد اللہ کی عبادت کے لئے بنائی جاتی ہے ان میں اللہ کا نام لینے اور اسکی عبادت بجالانے سے کسی کو نہیں روکنا چاہئیے۔کیونکہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک ایسا کرنے والا بہت بڑا ظالم ہے۔(سورۃ البقرہ آیت: ۱۱۵) مسجد میں اگر نکاح کے موقعہ پر یا کسی اور موقعہ پر شیرینی تقسیم ہو تو اس پر جھپٹنا درست نہیں۔بڑی متانت اور شائستگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے اور مسجد کے آداب اور وقار کوملحوظ خاطر رکھنا چاہیئے۔آداب مجالس آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم نے مجالس کے آداب جو بیان فرمائے وہ اتنے مکمل اور بہترین ہیں کہ جن پر عمل کرنے سے مجالس جنت کے باغوں کا نمونہ بن سکتی ہیں۔سورۃ المجادلہ کے دوسرے رکوع میں تفصیل سے یہ آداب درج ہیں :۔۱- مجالس میں کھل کر بیٹھنا چاہیئے مگر جب سمٹ جانے کو کہا جائے تو سمٹ جانا چاہیئے۔جب کسی مجلس سے اٹھ کر چلے جانے کو کہا جائے تو فوراً چلا جائے کیونکہ اصل چیز تو اطاعت و فرمانبرداری ہے۔اسلام کے معنی بھی فرمانبرداری کے ہی ہیں۔مجلس میں آتے اور جاتے السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ کہنا چاہیئے مجلس سے جانے کے لئے صاحب صدر سے اجازت لینا چاہیئے ۴۔مجلس میں کسی شخص کو اٹھا کر اس کی جگہ خود بیٹھنا نا پسندیدہ بات ہے۔جہاں جگہ ملے بیٹھ جائے۔۵- مجلس میں کسی آدمی سے علیحدگی میں سرگوشیاں نہیں کرنی چاہئیں۔یہ شیطانی کام ہے۔مجلس میں غیبت، چغل خوری نہ کی جائے۔کسی بھائی کے عیوب نہیں بتانے چاہئیں۔ے۔مجالس میں تسبیح و تحمید کے ساتھ ساتھ کثرت سے استغفار اور درود پڑھنا چاہیے۔335