دینی نصاب — Page 244
دعوی ماموریت و مسیحیت ۱۸۸۲ء میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے ماموریت کا پہلا الہام نازل ہوا اور آپ کو یہ علم دیا گیا کہ اس زمانہ میں تجدید دین اور احیائے اسلام کی خدمت آپ کے سپرد کی گئی ہے تا ہم آپ نے با قاعدہ رنگ میں فوری طور پر کسی قسم کا دعوی نہیں کیا۔لیکن متواتر الہامات کے باعث ۱۸۸۵ء میں آپ نے اپنے آپ کو محض مجد دوقت کی حیثیت میں پیش کیا۔حالانکہ جو الہامات ۱۸۸۳ء میں اور اس کے بعد ہوئے ان میں آپ کو اللہ تعالیٰ نے صریح طور پر مسیح، نبی اور نذیر کے ناموں سے یاد کیا تھا۔بات دراصل یہ ہے کہ آپ فدائیت کے نہایت اعلیٰ مقام پر تھے اور طبیعت میں اس درجہ انکسار پایا جاتا تھا کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ان بزرگ خطابات کی یہی توجیہ کرتے کہ ان سے مقصود محض کثرت مکالمہ ومخاطبہ ہے۔اور زیادہ وضاحت ہوئی تو ایک عرصہ تک اپنے مقام کو جزوی یا ناقص نبوت سے تعبیر کرتے رہے۔لیکن پھر ۱۸۹۰ ء اور ۱۹۰۰ ء کے درمیانی عرصہ میں آپ پر اس امر کا کامل انکشاف ہو گیا کہ آپ نبوت کے مقام پر ہی فائز ہیں۔اس رنگ میں کہ ایک پہلو سے آنحضرت کے امتی ہیں اور کثرت مکالمہ الہیہ کے لحاظ سے نبوت کے مقام پر فائز ہیں۔۲۳ مارچ ۱۸۸۹ء کو اللہ تعالیٰ کے حکم سے آپ نے سلسلہ عالیہ احمدیہ کی بنیاد ڈالی اور لدھیانہ میں پہلی بیعت لی۔اس روز چالیس افراد بیعت کر کے اس سلسلہ میں داخل ہوئے۔بیعت کرنے والوں میں اولیت کا شرف حضرت حاجی الحرمین حکیم مولوی نور الدین صاحب رضی اللہ عنہ کو حاصل ہوا جو بعد میں آپ کے خلیفہ اول منتخب ہوئے۔۱۸۹۰ ء میں آپ نے مسیح موعود ہونے کا دعویٰ کیا۔اس دعوی کے ساتھ ہی آپ کے خلاف ایک طوفان بے تمیزی امر آیا۔بڑے بڑے علماء نے آپ کے خلاف کفر کے فتوے دیئے لیکن خدائے تعالیٰ کی نصرت و تائید کے نشانات پے در پے ظاہر ہورہے تھے۔آپ نے تمام سجادہ 244