دینی نصاب — Page 243
دامن گیر رہتا کہ اس بچے کی آئندہ زندگی کیسے بسر ہوگی۔اگر چہ آپ کی طبیعت کا میلان دنیاداری کے کاموں کی طرف قطعا نہ تھا تا ہم آپ نے والد ماجد کی اطاعت کے جذبہ سے اِن کے اصرار پر کچھ عرصہ سیالکوٹ میں ملازمت کی اور جدی جائیداد کے حصول کے سلسلہ میں مقدمات کی پیروی بھی کی۔لیکن بہت جلد والد کی اجازت سے ان امور سے دستکش ہو گئے اور تبلیغ حق کی مہم میں بدل و جان مصروف ہوئے۔۱۸۷۶ء میں والد ماجد کا انتقال ہو گیا۔ان کی وفات سے قبل الہاما اللہ تعالیٰ نے اس حادثہ کی اطلاع آپ کو دی۔اور آلیسَ اللهُ بِكَافٍ عبدلی کے الفاظ میں یہ بھی ڈھارس بندھائی کہ وہ خود آپ کا کفیل ہوگا۔والد کی وفات کے بعد ہی مکالمات و مخاطبات الہیہ کا سلسلہ بڑے زور وشور سے شروع ہو گیا۔وہ زمانہ روحانی لحاظ سے انتہائی ظلمت و تاریکی کا تھا۔دنیا کا بیشتر حصہ مشرکانہ عقائد ورسوم میں مبتلا تھا۔اپنے خالق و مالک سے یکسر بے گانہ تھا۔ایک طرف عیسائی مناد اسلام پر حملے کر رہے تھے تو دوسری طرف آریہ سماج و بر ہمو سماج والے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات بابرکات کے خلاف گندہ دہنی اور الزام تراشی میں مصروف تھے۔علماء اسلام فروعی مسائل اور ایک دوسرے کے خلاف تکفیر بازی میں اس قدر الجھے ہوئے تھے کہ انہیں خدمت دین کا ذرا بھی ہوش نہ تھا۔جو حالات کی نزاکت کا احساس رکھتے تھے ان میں استطاعت نہ تھی کہ مخالفین کے حملوں کا جواب دیتے۔ایسے حالات میں اللہ تعالیٰ نے حضرت مرزا غلام احمد صاحب کے دل میں یہ جوش ڈالا کہ آپ اسلام کی حقانیت کو دنیا پر واضح کریں۔چنانچہ آپ نے ایک کتاب براہین احمدیہ نامی تصنیف فرمائی اور تمام مذاہب کے پیروؤں کو چیلنج کیا کہ وہ حسن و خوبی اور براہین و دلائل میں قرآن کریم کا مقابلہ کر کے دس ہزار روپیہ کا انعام حاصل کریں لیکن کسی کو اس مقابلہ کی جرات نہ ہوئی۔اس کتاب کی اشاعت نے مذہبی دنیا میں ایک تہلکہ مچادیا۔آپ تعریف میں رطب اللسان تھے اور مخالفین پر سکتہ کا عالم طاری ہو گیا تھا۔243