دینی نصاب — Page 240
قریب تھا کہ امیر معاویہ کا لشکر شکست کھا جائے کہ عمرو بن عاص نے ایک چال چلی۔قرآن مجید نیزوں پر رکھ کر بلند کئے اور تجویز پیش کی کہ ثالث مقرر کر کے فیصلہ کر لیا جائے۔حضرت علی کے کچھ ساتھی بھی اس دھوکے میں آگئے اور انہوں نے ثالث کی تجویز کو قبول کرنے پر آمادگی ظاہر کی۔اپنی صفوں میں انتشار دیکھ کر مجبوراً حضرت علی نے اس تجویز کو قبول کر لینے پر آمادگی ظاہر کی۔حضرت علی کی طرف سے ابو موسیٰ اشعری اور امیر معاویہؓ کی طرف عمرو بن عاص ثالث مقرر ہوئے۔ابو موسیٰ اشعری سیدھے سادے صوفی منش آدمی تھے لیکن عمرو بن عاص بہت جہاندیدہ سیاس تھے انہوں نے ابو موسیٰ اشعری کو یہ کہہ کر ہم خیال بنالیا کہ حضرت علی اور حضرت امیر معاویہ دونوں کو معزول کر کے نیا انتخاب کیا جائے۔چنانچہ ابو موسیٰ نے اس کا اعلان کر دیا لیکن عمرو بن عاص نے کہا میں حضرت علی کے معزول کئے جانے کی تائید کرتا ہوں لیکن امیر معاویہ کو برقرار رکھتا ہوں اس طرح عمر و بن عاص نے لوگوں کو دھو کہ دیا۔خوارج کا ظہور جب حضرت علی کو اس سیاسی فریب کا علم ہوا تو وہ پھر جنگ کی تیاری کرنے لگے۔اسی اثناء میں انہیں علم ہوا کہ ان کی جماعت کا ایک گروہ اس وجہ سے الگ ہو گیا ہے کہ کیوں ثالثی کی تجویز کو قبول کیا گیا۔انہوں نے اپنا ایک الگ امیر مقرر کر لیا اور اسطرح مسلمان تین گروہوں میں بٹ گئے۔حضرت علی نے ان کی سرکوبی کے لئے ایک لشکر تیار کیا۔پہلے تو انہیں سمجھانے کی کوشش کی لیکن جب وہ ضد پر قائم رہے تو دونوں لشکروں میں خونریز جنگ ہوئی اور کئی ہزار خارجی مارے گئے صرف چند لوگ زندہ بیچ رہے۔شہادت اگر چہ خارجیوں کو شکست ہوگئی لیکن ان شوریدہ سرلوگوں نے سوچا کہ کامیابی اسی صورت 240