دینی نصاب

by Other Authors

Page 233 of 377

دینی نصاب — Page 233

دور خلافت اپنی خلافت کے دور میں حضرت عمر نے ایران و روم کی سلطنتوں کی طرف فوری توجہ دی۔اور بڑے صبر آزما حالات میں اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو کامیابیاں عطا کیں۔ایران اور عراق فتح ہوا۔پھر شام و مصر فتح ہوئے۔بیت المقدس جب سن ۷ے اٹھ میں فتح ہوا تو رومیوں کی درخواست پر حضرت عمر بنفس نفیس وہاں تشریف لے گئے اور صلح کے معاہدہ پر دستخط کئے۔اور سب کو امان دی۔آپ کے دور خلافت میں سلطنت کی حدود بہت وسیع ہوگئی تھیں مشرق میں افغانستان اور چین کی سرحدوں تک مسلمان فوجیں پہنچ چکی تھیں، مغرب میں طرابلس اور شمالی افریقہ تک ، شمال میں بحر قزوین تک اور جنوب میں حبشہ تک۔ایک دنیا محو حیرت ہے کہ دس بارہ سال کے قلیل عرصہ میں ایک بے سروسامان قوم کس طرح منظم حکومتوں پر چھا گئی۔حضرت عمر نے توسیع سلطنت اور فتوحات کے ساتھ ساتھ ملکی انتظام کی طرف بہت توجہ دی۔ملک کو مختلف صوبوں میں تقسیم کیا اور ہر صوبے میں حاکم صوبہ ، فوجی میر منشی ، افسر مال، پولیس افسر ، قاضی اور خزانچی مقرر کئے۔عدالت ، پولیس اور فوج کے الگ الگ محکمے قائم کئے۔ڈاک کا انتظام کیا۔جیل خانے بنائے۔ٹکسال بنا کر چاندی کے سکے رائج کئے۔مدینہ میں نیز تمام ضلعی مراکز میں بیت المال قائم کئے۔فوج کی تنخواہیں اور مستحقین کے وظیفے مقرر کئے۔اور دفتری نظام کی داغ بیل ڈالی۔رفاہ عامہ کے کاموں کے سلسلہ میں بڑے بڑے شہروں میں مسافر خانے تعمیر کرائے۔مکہ مدینہ کے درمیان چوکیاں، سرا ئیں اور حوض تعمیر کرائے اور کئی نہریں کھدوائیں۔حضرت عمرؓ نے ۹۹ میل لمبی ایک نہر کھدوا کر دریائے نیل کو بحر احمر ( بحر قلزم ) سے ملا دیا جس سے تجارت کو بہت فروغ ہوا اور مصر کے جہاز براہِ راست مدینہ کی بندرگاہ تک آنے لگے۔233