دینی نصاب — Page 215
إِنَّ اللهَ لَا يُغَيْرُ مَا بِقَوْمٍ حَتَّى يُغَيْرُوا مَا بِأَنْفُسِهِمْ إِنَّهُ أَوَى الْقَرْيَةَ یعنی خُدا نے یہ ارادہ فرمایا ہے کہ اس بلائے طاعون کو ہرگز دُور نہیں کرے گا جب تک لوگ ان خیالات کو دُور نہ کرلیں جو ان کے دلوں میں ہیں یعنی جب تک وہ خُدا کے مامور اور رسول کو مان نہ لیں تب تک طاعون دُور نہیں ہوگی اور وہ قادر خُدا قادیان کو طاعون کی تباہی سے محفوظ رکھے گا تاتم سمجھو کہ قادیان اسی لئے محفوظ رکھی گئی کہ وہ خُدا کا رسول اور فرستادہ قادیان میں تھا۔“ دافع البلاء روحانی خزائن جلد ۱۸ صفحه ۲۲۵ ، صفحه ۲۲۶) پھر خداوند عز و جل نے یہ بھی خبر دی کہ :-۔۔إنِّي أَحَافِظُ كُلّ مَنْ فِي الدَّارِ إِلَّا الَّذِينَ عَلَوْا مِنْ اِسْتِكْبَارٍ وَأَحَافِظُكَ خَاصَّةً - سَلَامٌ قَوْلًا مِّنْ رَّبٍ رَّحِيمٍ۔( تذکره صفحه ۴۶۸ طبع چہارم) یعنی میں ہر ایک ایسے انسان کو طاعون کی موت سے بچاؤں گا جو تیرے گھر میں ہوگا مگر وہ لوگ جو تکبر سے اپنے تئیں اونچا کریں اور میں تجھے خصوصیت کے ساتھ بچاؤں گا۔خدائے رحیم کی طرف سے تجھے سلام۔“ طاعون کی مصیبت سے لوگوں کو بچانے کے لئے حکومت وقت نے طاعون کا ٹیکہ لگانا شروع کیا لیکن حضرت مسیح موعود نے اپنی جماعت کو ٹیکہ کرانے سے منع کر دیا تا کہ وہ نشان جو حضور کی صداقت کے لئے مقرر کیا گیا تھا مشتبہ نہ ہو جائے۔چنانچہ حضور نے ایک کتاب کشتی نوح تصنیف فرمائی اور اس میں تحریر فرمایا :- اس نے مجھے مخاطب کر کے فرمایا کہ تو اور جو شخص تیرے گھر کی چاردیوار کے اندر ہو گا اور وہ جو کامل پیروی اور اطاعت اور سچے تقویٰ سے تجھ میں محو ہو جائے گا وہ 215