دینی نصاب

by Other Authors

Page 204 of 377

دینی نصاب — Page 204

مَا جَرَّبْنَا عَلَيْكَ إِلَّا صِدْقًا - ( بخاری کتاب التفسير سورة الشعراء جلد ۳ صفحه ۱۰۶ مصری) ہم نے آپ سے سوائے سچ کے کسی اور چیز کا تجربہ نہیں کیا۔تب آپ نے فرمایا :- فَإِنِّي نَذِيرٌ لَّكُمْ بَيْنَ يَدَى عَذَابٍ شَدِيدٍ میں خدا کی طرف سے نبی ہو کر آیا ہوں اور ایک خطر ناک عذاب سے تمہیں ڈراتا ہوں۔یہ بات سُن کر حاضرین میں سے ابو لہب اُٹھا۔اور اُس نے کہا تباً لكَ۔تیرے لئے ہلاکت ہوتو نے یہ کیا بات کہی ہے۔اس واقعہ سے ثابت ہوتا ہے کہ نبی کی دعوئی سے پہلے کی زندگی دوست اور دشمن سب کے تجربہ کی رُو سے پاک اور صاف ہوتی ہے اور جھوٹ بولنے کا قطعا عادی نہیں ہوتا۔درحقیقت اس کی دعوی نبوت کے بعد کی زندگی بھی پاک وصاف ہوتی ہے لیکن دعوی نبوت کرنے کے بعد لوگ اس کے دشمن ہو جاتے ہیں اور اس پر طرح طرح کے الزامات لگا دیتے ہیں۔پس ایک مدعی نبوت کی صداقت کو پر کھنے کے لئے اس کی دعوی سے قبل کی زندگی کو دیکھنا چاہیئے۔اگر وہ ہر پہلو سے پاک وصاف ہے تو بلا شبہ وہ سچا ہے۔یہ ایسی دلیل ہے جو فطرت انسانی کے عین مطابق ہے اور جاہل سے جاہل بھی اس کو سمجھ سکتا ہے۔اسی دلیل کے مطابق حضرت مرزا غلام احمد صاحب قادیانی مسیح موعود و مہدی معہود علیہ السلام سچے قرار پاتے ہیں۔دیکھئے حضور اپنی پاکیزہ زندگی کے بارے میں کیسی تحدی سے فرماتے ہیں :۔اب دیکھو خدا نے اپنی حجت کو تم پر اس طرح پر پورا کر دیا ہے کہ میرے دعوئی پر ہزار ہا دلائل قائم کر کے تمہیں یہ موقعہ دیا ہے کہ تا تم غور کرو کہ وہ شخص جو تمہیں اس سلسلہ کی طرف بلاتا ہے وہ کس درجہ کی معرفت کا آدمی ہے اور کس قدر دلائل پیش کرتا ہے اور تم کوئی عیب، افتراء یا جھوٹ یا دغا کا میری پہلی زندگی پر نہیں لگا سکتے تاتم یہ خیال کرو کہ جوشخص پہلے سے جھوٹ اور افتراء کا عادی ہے یہ بھی اس نے جھوٹ بولا ہوگا کون تم میں ہے جو 204