دینی نصاب

by Other Authors

Page 124 of 377

دینی نصاب — Page 124

دوسری بات یہ ہے کہ مہدی کے نسب کے متعلق زیادہ صحیح قول یہ ہے کہ وہ اہلِ بیت میں سے ہوگا اور باقی اقوال اس کے مقابل پر کم درجہ کے ہیں۔مگر اسے بھی درست ماننے میں کوئی حرج لازم نہیں آتا۔کیونکہ ہم دیکھ چکے ہیں کہ جب آخَرِينَ مِنْهُم والی آیت اتری تو صحابه کے سوال کرنے پر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے سلمان فارسی کی پیٹھ پر ہاتھ رکھ کر فرمایا تھا کہ لَوْ كَانَ الْإِيْمَانُ عِنْدَ الثُرَيَّا لَنَالَهُ رَجُلٌ مِنْ هَؤُلاء - ( بخاری کتاب التفسیر تفسير سورة جمعہ ) یعنی اگر ایمان دنیا سے اُٹھ کر ثریا ستارے پر بھی چلا گیا تو پھر بھی ان فارسی الاصل لوگوں میں سے ایک شخص اسے وہاں سے اُتار لائے گا۔گویا کہ آپ نے مہدی کو سلمان کی قوم سے قرار دیا جو فارسی الاصل تھے۔اب دوسری طرف ہم دیکھتے ہیں کہ غزوہ احزاب کے موقعہ پر آپ نے اسی سلمان کے متعلق فرمایا کہ سَلْمَانُ مِنَّا أَهْلَ الْبَيْتِ (طبرانی کبیر و مستدرک حاکم) یعنی مسلمان ہم اہل بیت میں سے ہے۔پس مہدی کے متعلق اہل بیت کا لفظ بھی حضرت مرزا صاحب کے دعوی کے مخالف نہیں بلکہ موید ہے اور یہ ایک لطیف نکتہ ہے جو بھولنا نہیں چاہیے گویا مہدی موعود فارسی الاصل بھی رہا جیسا کہ حدیث صحیح سے ثابت ہے اور اہل بیت سے بھی ہو گیا۔جیسا کہ عام روایات بتاتی ہیں۔اس کے علاوہ ہم دیکھتے ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے مسیح و مہدی کے متعلق فرمایا ہے کہ يُدْفَنُ مَعِي في قبری ( مشکوۃ کتاب الفتن باب نزول عیسی بن مریم ) یعنی وہ میرے ساتھ میری قبر میں دفن ہوگا۔اس سے بھی اسی اتحاد روحانی کی طرف اشارہ مقصود تھا۔ورنہ نعوذ باللہ یہ گمان کرنا کہ کسی دن آپ کی قبر کھاڑی جائے گی اور اُس میں مسیح و مہدی کو دفن کیا جائے گا ایک بے وقوفی اور بے غیرتی کا خیال ہے جسے کوئی سچا اور باغیرت مسلمان ایک سیکنڈ کیلئے بھی قبول نہیں کر سکتا۔پس حق یہی ہے کہ ان تمام اقوال میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بات کی طرف اشارہ فرمایا ہے کہ مہدی آپ کا بروز ہوگا اور اس کی بعثت گویا آپ ہی کی بعثت ہوگی۔124